Towhid Hridoy century powers Mohammedan to 107-run win over Rupganj
ڈھاکہ پریمیئر لیگ میں محمدن اسپورٹنگ کلب کا شاندار مظاہرہ
ڈھاکہ پریمیئر لیگ (DPL) کے تازہ ترین راؤنڈ میں، محمدن اسپورٹنگ کلب نے لیجنڈز آف روپ گنج کو 107 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ میرپور کے شیرِ بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں محمدن اسپورٹنگ کلب کے بیٹرز اور بولرز دونوں نے ہی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
توحید ہردوئی کی شاندار سنچری
میچ کا آغاز روپ گنج کے ٹاس جیتنے اور پہلے فیلڈنگ کرنے کے فیصلے سے ہوا۔ محمدن اسپورٹنگ کلب نے اس فیصلے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مقررہ 50 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 339 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کر دیا۔ اننگز کی خاص بات توحید ہردوئی کی دلکش بیٹنگ تھی، جنہوں نے 106 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 101 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کا ساتھ انعام الحق وجے نے دیا جنہوں نے 63 گیندوں پر 71 رنز بنائے، جبکہ عفیف حسین نے 70 گیندوں پر 70 رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کے ٹوٹل کو مستحکم کیا۔
روپ گنج کی مشکلات اور بولنگ لائن
لیجنڈز آف روپ گنج کی جانب سے مہدی حسن نے 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ حسن محمود، شرف الاسلام اور مہدی حسن میراز نے ایک ایک وکٹ اپنے نام کی۔ محمدن کے بیٹرز کے خلاف روپ گنج کے بولرز زیادہ موثر ثابت نہ ہو سکے۔ 340 رنز کے تعاقب میں روپ گنج کی جانب سے حبیب الرحمان سوہم نے جارحانہ آغاز کیا اور صرف 27 گیندوں پر 59 رنز بنا کر ٹیم کو امید دلائی، لیکن ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم لڑکھڑا گئی۔
بولنگ میں محمدن اسپورٹنگ کلب کا غلبہ
ہدف کے تعاقب میں روپ گنج کی ٹیم 34 اوورز میں 232 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ مہدی حسن نے 37 اور نسیم احمد نے 45 رنز کے ساتھ مزاحمت کی کوشش کی، لیکن محمدن کے بولرز کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ ناہید رانا اس میچ کے سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے 71 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔ طیب الرحمان نے 3، محمد سیف الدین نے 2 اور تیج الاسلام نے ایک وکٹ لے کر اپنی ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
میچ کا خلاصہ
یہ جیت محمدن اسپورٹنگ کلب کے لیے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی۔ ٹیم کی بیٹنگ اور بولنگ میں توازن اور توحید ہردوئی کی فارم یہ ظاہر کرتی ہے کہ محمدن اسپورٹنگ کلب اس سیزن میں ٹائٹل کی مضبوط امیدوار ہے۔ روپ گنج کے لیے یہ ایک ایسا سبق ہے جہاں انہیں اپنی بولنگ اور مڈل آرڈر بیٹنگ پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ شائقین کے لیے یہ ایک بھرپور میچ تھا جس میں ہر شعبے میں بہترین کھیل دیکھنے کو ملا۔
