Get Cricket New
Bangladesh Cricket

ICC clarifies purpose of Bangladesh visit ahead of BCB elections

Neha Kapoor · · 1 min read

بنگلہ دیش کرکٹ میں ہلچل: آئی سی سی کا دورہ اور پس منظر

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے انتخابات 7 جون کو طے شدہ ہیں، جس کے پیش نظر بورڈ کی موجودہ ایڈہاک کمیٹی اور مستقبل کے انتظامی امور پر بحث و مباحثہ عروج پر ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران، میڈیا اور کرکٹ کے حلقوں میں کئی طرح کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ ان افواہوں نے خاص طور پر ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین تمیم اقبال کی آئی سی سی میٹنگ میں عدم موجودگی اور آئی سی سی وفد کے بنگلہ دیش کے دورے کو ایک خاص تناظر میں پیش کیا، جس سے بنگلہ دیشی کرکٹ کی انتظامیہ کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔

آئی سی سی کا باضابطہ موقف

ان تمام قیاس آرائیوں کے جواب میں، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اب براہ راست اس معاملے پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ میڈیا میں گردش کرنے والی بہت سی رپورٹس اور دعوے محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور ان کا آئی سی سی کی سرکاری پالیسی یا موقف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آئی سی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ایک دو رکنی وفد حال ہی میں بنگلہ دیش کے دورے پر گیا تھا تاکہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کر کے گورننس اور انتخابات سے متعلق امور پر بات چیت کی جا سکے۔

وفد میں کون شامل تھا؟

اس وفد میں آئی سی سی بورڈ کے دو اہم ڈائریکٹرز شامل تھے، جن میں کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے ڈاکٹر محمد اے ایس موسیٰ جی اور زمبابوے کرکٹ کے ٹوینگوا مکھلانی شامل ہیں۔ آئی سی سی کے مطابق، ان نمائندوں نے بی سی بی میں جاری پیش رفت اور انتظامی معاملات کے وسیع تر جائزے کے حصے کے طور پر مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔

آئندہ کا لائحہ عمل

آئی سی سی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ وفد اپنے مشاہدات اور نتائج کو مناسب وقت پر آئی سی سی بورڈ کے سامنے پیش کرے گا۔ تاہم، عالمی گورننگ باڈی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ وفد اس معاملے پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کرے گا۔ آئی سی سی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا: “انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے مقرر کردہ دو رکنی وفد، جس میں ڈاکٹر محمد اے ایس موسیٰ جی اور جناب ٹوینگوا مکھلانی شامل ہیں، نے حال ہی میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا تاکہ بی سی بی سے وابستہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔”

قیاس آرائیوں سے گریز

آئی سی سی نے مزید واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی میڈیا رپورٹس، کمنٹری یا دعوے جو اس دورے کے مقاصد کے بارے میں کیے جا رہے ہیں، وہ قیاس آرائی پر مبنی ہیں اور آئی سی سی کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔ وفد کے اراکین نے اپنی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کی ہے اور وہ تب تک کوئی عوامی بیان نہیں دیں گے جب تک کہ وہ اپنی رپورٹ بورڈ کو جمع نہ کروا دیں۔ کرکٹ کے شائقین اور مبصرین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ صرف آئی سی سی کے سرکاری بیانات پر ہی اعتماد کریں۔ بی سی بی کے انتخابات کے قریب آتے ہی، انتظامیہ کے مستقبل کے حوالے سے یہ دورہ ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس کی تفصیلات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گی۔ فی الحال، کرکٹ کی دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آئی سی سی بورڈ اپنی رپورٹ میں کن نکات کو اجاگر کرتا ہے اور بنگلہ دیشی کرکٹ کی بہتری کے لیے کیا تجاویز دی جاتی ہیں۔