McGrath: Australia will have to manage turnover of Test attack
آسٹریلوی پیس اٹیک کا مستقبل اور گلین میک گراتھ کے خدشات
آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم جو طویل عرصے سے اپنے تیز رفتار بولرز کی بدولت دنیا بھر میں خوف کی علامت سمجھی جاتی ہے، اب ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ سابق عظیم فاسٹ بولر گلین میک گراتھ نے اس حوالے سے خبردار کیا ہے کہ McGrath: Australia will have to manage turnover of Test attack کے تقاضوں کے مطابق آسٹریلیا کو مستقبل کے لیے تیاری کرنی ہوگی۔
مچل اسٹارک، پیٹ کمنز، اور جوش ہیزل ووڈ کا ٹرائیو گزشتہ ایک دہائی سے آسٹریلوی بولنگ کی بنیاد رہا ہے۔ تاہم، ان کھلاڑیوں کی عمریں اب تیس کے پیٹے کے آخری حصے میں ہیں، جس کے باعث ان کی فٹنس اور ورک لوڈ کو سنبھالنا آسٹریلوی سلیکٹرز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
نئے ٹیلنٹ کی تلاش
میک گراتھ کا ماننا ہے کہ اگرچہ ٹیم کو تبدیلی کی ضرورت ہے، لیکن آسٹریلیا میں باصلاحیت نوجوان بولرز کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے اسپینسر جانسن، ناتھن ایلس، اور زیویئر بارٹلیٹ جیسے ناموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کھلاڑیوں کے پاس وہ رفتار اور صلاحیت موجود ہے جو بین الاقوامی سطح پر درکار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ول سدرلینڈ، جیک ایڈورڈز اور برینڈن ڈوگیٹ جیسے نوجوان بھی قطار میں موجود ہیں جو مستقبل میں ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
میک گراتھ نے زور دیا کہ شیفیلڈ شیلڈ (گھریلو فرسٹ کلاس کرکٹ) کی کارکردگی ہی وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے نئے کھلاڑیوں کو پرکھا جانا چاہیے۔ ناتھن میک اینڈریو جیسے بولرز کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر مسابقت ہی کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کے سخت چیلنجز کے لیے تیار کرتی ہے۔
اولی پیک: مستقبل کا ستارہ؟
بولنگ کے ساتھ ساتھ میک گراتھ نے 19 سالہ بلے باز اولی پیک کی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی ہے۔ پیک، جنہوں نے حال ہی میں ون ڈے کرکٹ میں قدم رکھا ہے، کو میک گراتھ نے ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر دیکھا ہے جو ہندوستان میں ہونے والی بارڈر-گاوسکر ٹرافی کے لیے آسٹریلوی ٹیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔
- اولی پیک کی تکنیک اور دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت قابل تعریف ہے۔
- میک گراتھ کے مطابق، بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ مقامی کرکٹ سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
- سلیکٹرز اس نوجوان کھلاڑی کو مستقبل کے لیے ایک اہم اثاثہ سمجھ رہے ہیں۔
میک گراتھ کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم کی موجودہ اوسط عمر کافی زیادہ ہو چکی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ان کے دور میں تھی، اس لیے ٹیم میں تازہ خون شامل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
آگے کی راہ
آسٹریلیا کے اگلے 14 مہینوں کے شیڈول میں 20 سے زائد ٹیسٹ میچز شامل ہیں، جو پیس بولرز کی فٹنس کا امتحان لیں گے۔ میک گراتھ کو امید ہے کہ اگلے سال انگلینڈ میں ایشز سیریز جیتنے کا جوش اسٹارک، کمنز اور ہیزل ووڈ کو مزید کچھ عرصہ متحرک رکھے گا۔ تاہم، تبدیلی کا عمل اب روکا نہیں جا سکتا۔
آخر میں، میک گراتھ نے واضح کیا کہ آسٹریلیا کو اپنی ورک لوڈ مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ تجربہ کار کھلاڑیوں اور ابھرتے ہوئے نوجوانوں کے درمیان ایک توازن برقرار رہے۔ یہ صرف ایک بولنگ اٹیک کو تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ آسٹریلیا کی کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک حکمت عملی ہے۔
