Get Cricket New
Bangladesh Cricket

Shreyas Iyer emerges as favourite to become India’s new T20I captain: Reports – بھارتی کرکٹ ٹیم کی قیادت

Neha Kapoor · · 1 min read

بھارتی کرکٹ اس وقت ایک انتہائی اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں مختصر ترین فارمیٹ یعنی ٹی 20 انٹرنیشنل میں ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، بھارت جلد ہی ٹی 20 کرکٹ میں ایک نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے، جس میں نوجوان کھلاڑیوں کی قیادت اور ٹیم کی ازسرنو تشکیل پر توجہ دی جائے گی۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ شریاس अय्यर کو ٹیم کا نیا کپتان بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، جس سے بھارتی کرکٹ کے مستقبل کی سمت کا تعین ہو گا۔

Shreyas Iyer emerges as favourite to become new T20I captain. (Credits: X.com)

شریاس अय्यर: قیادت کی دوڑ میں سب سے آگے

رپورٹس کے مطابق، آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہونے والی آئندہ ٹی 20 سیریز کے لیے شریاس अय्यर کو ٹیم کی باقاعدہ قیادت سونپی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ Shreyas Iyer emerges as favourite to become India’s new T20I captain: Reports۔ سلیکٹرز کا خیال ہے کہ شریاس अय्यर کے پاس آئی پی ایل میں کپتانی کا وسیع تجربہ ہے اور انہوں نے اپنی قیادت میں مختلف ٹیموں کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ ان کا یہ تجربہ اور آئی پی ایل میں ان کی شاندار انفرادی کارکردگی انہیں اس عہدے کے لیے دیگر تمام کھلاڑیوں سے ممتاز بناتی ہے۔ بھارتی سلیکشن کمیٹی کا بنیادی ہدف اگلے دو ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ایک مضبوط اور طویل مدتی کپتان کا انتخاب کرنا ہے، جو ٹیم کو بغیر کسی دباؤ کے فتوحات کی راہ پر گامزن رکھ سکے۔

سوریا کمار یادو کی کپتانی کا ممکنہ خاتمہ

شریاس अय्यर کے کپتانی کی دوڑ میں نمایاں ہونے کے ساتھ ہی، موجودہ کپتان سوریا کمار یادو کے مستقبل پر سوالیہ نشانات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اگرچہ سوریا کمار یادو نے رواں سال کے شروع میں اپنی قیادت میں بھارت کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا فاتح بنایا تھا، لیکن حالیہ مہینوں میں بطور بلے باز ان کی فارم انتہائی تشویشناک رہی ہے۔ آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، جہاں وہ ممبئی انڈینز کی نمائندگی کرتے ہوئے 13 میچوں میں صرف 270 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ اس مایوس کن بلے بازی اور ٹیم کی ناقص کارکردگی کے نتیجے میں ممبئی انڈینز کی فرنچائز پوائنٹس ٹیبل پر نویں نمبر پر رہی۔ ان وجوہات کی بنا پر سلیکٹرز اب کپتانی کے لیے نئے متبادل پر غور کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

تلک ورما اور ایشان کشن: مستقبل کی قیادت کے دعویدار

اگرچہ شریاس अय्यर اس وقت کپتانی کے لیے پہلی ترجیح ہیں، لیکن سلیکٹرز مستقبل کی منصوبہ بندی کو بھی نظرانداز نہیں کر رہے ہیں۔ اس دوڑ میں تلک ورما اور ایشان کشن کے نام بھی مسلسل زیر بحث ہیں۔ ان دونوں نوجوان کھلاڑیوں کو بھارتی کرکٹ کے طویل مدتی مستقبل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور انہیں مستقبل میں اہم قائدانہ کردار سونپے جا سکتے ہیں۔ اگر شریاس अय्यर کو آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے کپتان نامزد کیا جاتا ہے، تو قوی امکان ہے کہ تلک ورما یا ایشان کشن میں سے کسی ایک کو ان کا نائب مقرر کیا جائے گا۔ یہ اقدام نوجوان کھلاڑیوں کو سینئر قیادت کی نگرانی میں تیار کرنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔

ایشین گیمز کے لیے مضبوط اسکواڈ کی روانگی کا منصوبہ

دوسری جانب، بھارتی کرکٹ بورڈ ایشین گیمز کے لیے بھی ایک مضبوط اسکواڈ بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ بھارت نے 2022 کے ایشین گیمز میں کرکٹ کا طلائی تمغہ اپنے نام کیا تھا، اور اب سلیکٹرز اس اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ٹورنامنٹ کے لیے ایک بہترین اور متوازن اسکواڈ کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاکہ بین الاقوامی سطح پر بھارتی کرکٹ کی بالادستی برقرار رکھی جا سکے۔

15 سالہ ویبھو سوریاونشی: بھارتی کرکٹ کی نئی سنسنی

آنے والی سیریز اور سلیکشن کے حوالے سے سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز موضوع 15 سالہ بلے باز ویبھو سوریاونشی کا ہے۔ اس نوجوان کھلاڑی نے آئی پی ایل 2026 میں اپنی غیر معمولی کارکردگی سے کرکٹ کی دنیا کو دنگ کر دیا۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے دوران 237.20 کے ناقابل یقین اسٹرائیک ریٹ سے 776 رنز اسکور کیے اور سب سے زیادہ رنز بنانے پر آرنج کیپ بھی حاصل کی۔ ان کی اس لاجواب اور دھماکے دار کارکردگی نے سلیکٹرز کو ان کے نام پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے، اور انہیں قومی ٹیم میں شامل کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

ٹاپ آرڈر میں جگہ حاصل کرنے کی جنگ

بھارتی ٹیم میں شمولیت حاصل کرنا کسی بھی نوجوان کھلاڑی کے لیے آسان کام نہیں ہے، خاص طور پر جب ٹاپ آرڈر میں پہلے ہی سخت مقابلہ ہو۔ اس وقت ابھیشیک شرما، سنجو سیمسن اور ایشان کشن جیسے باصلاحیت کھلاڑی پہلے ہی ٹاپ آرڈر پوزیشنز کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ان حالات میں ویبھو سوریاونشی کے لیے پلیئنگ الیون میں جگہ بنانا ایک بڑا چیلنج ہوگا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ 26 جون سے آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والی سات میچوں کی طویل ٹی 20 سیریز میں انہیں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع ضرور دیا جائے گا۔