Get Cricket New
News

‘Her rough phase is gone’ – Harmanpreet pleased with Ghosh’s return to form – پاک بھارت ٹکراؤ سے قبل ہرمن پریت کا بڑا بیان

Aarav Bennett · · 1 min read

پاک بھارت ٹکراؤ سے قبل بھارتی ٹیم کے لیے خوش آئند خبر

خواتین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میلہ سجنے کو ہے اور روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے سنسنی خیز مقابلے سے قبل دونوں ٹیموں کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ اس بڑے معرکے سے قبل بھارتی کیمپ سے ایک انتہائی مثبت خبر سامنے آئی ہے جو کہ مڈل آرڈر بیٹر ریچا گھوش کی فارم میں شاندار واپسی ہے۔ بھارتی کپتان ہرمن پریت کور نے اس پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ریچا کی یہ فارم ٹیم کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔

ریچا گھوش کا مشکل دور اور شاندار واپسی

ریچا گھوش کی حالیہ کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ گزشتہ کچھ عرصے سے مشکلات کا شکار تھیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز میں انہوں نے 42.50 کی اوسط اور 157.40 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے 85 رنز بنائے تھے۔ تاہم، اس کے بعد انگلینڈ کے خلاف سیریز میں وہ مشکلات کا شکار رہیں اور تین اننگز میں صرف 18 رنز ہی بنا سکیں۔ لیکن ورلڈ کپ کے وارم اپ میچ میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے دوبارہ اپنی کلاس دکھائی اور صرف 36 گیندوں پر 68 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی۔ اگرچہ بھارتی ٹیم یہ میچ پانچ رنز سے ہار گئی، لیکن ریچا کی اس اننگز نے ٹیم انتظامیہ کے حوصلے بلند کر دیے ہیں کیونکہ ان کے علاوہ کوئی بھی بھارتی بیٹر 18 رنز کی حد بھی عبور نہیں کر سکی تھی۔

ہرمن پریت کور کا ریچا گھوش کی فارم پر اظہارِ خیال

کپتان ہرمن پریت کور نے پاکستان کے خلاف میچ سے قبل پریس کانفرنس میں ریچا گھوش کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا: “ہم سب ریچا کے دوبارہ فارم میں آنے اور ان کا اعتماد بحال ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ ہماری ٹیم کی ایک اہم ترین کھلاڑی ہیں اور میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہم سب اس بات پر بے حد خوش ہیں کہ وہ دوبارہ فارم میں واپس آ چکی ہیں اور ان کا اعتماد بحال ہو گیا ہے۔”

ہرمن پریت نے مزید کہا کہ انگلینڈ کے خلاف اس اننگز کے بعد ریچا نیٹس میں بھی بہت شاندار نظر آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اچھی اننگز ہمیشہ آپ کو بہت زیادہ اعتماد دیتی ہے، اور ہم نے دیکھا ہے کہ جیسے ہی انہوں نے وہ رنز بنائے، وہ نیٹس میں بالکل ایک الگ کھلاڑی دکھائی دے رہی ہیں۔ کپتان کے مطابق، ریچا کا مشکل دور اب ختم ہو چکا ہے اور وہ اب ٹورنامنٹ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

شکستوں سے سیکھنے کا عمل اور کنڈیشنز سے ہم آہنگی

ہرمن پریت کور کا ماننا ہے کہ ان کی ٹیم بالکل صحیح وقت پر اپنی فارم حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے انگلش کنڈیشنز میں کافی وقت گزارا ہے جس سے کھلاڑیوں کو حالات کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیم کسی ایک طے شدہ پلان کے ساتھ میدان میں نہیں اتر سکتی بلکہ حالات کے مطابق لچک دکھانا ضروری ہے۔

بھارتی کپتان نے کہا: “جب چیزیں ہمیشہ اچھی چل رہی ہوں تو کبھی کبھی آپ کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ایک ٹیم کے طور پر آپ کو کن شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ لیکن جب آپ ہارتے ہیں تو آپ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ نے ہمیں بہت سی چیزیں اور بہتری کی گنجائش دکھائی ہے۔ ہم ٹیم میٹنگز میں اسی پر بات کر رہے ہیں اور اسے میدان پر لاگو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

پاکستانی کیمپ کی صورتحال اور فاطمہ ثنا کی انجری کی خبر

دوسری جانب، پاکستانی کیمپ سے بھی اہم خبریں سامنے آئی ہیں۔ میچ سے ایک دن قبل پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نیٹس میں بولنگ کے دوران زخمی ہونے سے بال بال بچ گئیں۔ عائشہ ظفر کے ایک شاٹ پر گیند براہ راست فاطمہ کے گھٹنے پر جا لگی جس سے پاکستانی خیمے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم، فاطمہ ثنا نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اتوار کو ہونے والے میچ کے لیے مکمل طور پر فٹ ہوں گی اور میدان میں اتریں گی۔

فاطمہ کا کہنا تھا: “اب میرا گھٹنا بہتر ہے۔ ہم سب تیار ہیں اور جانتے ہیں کہ یہاں کے حالات کیسے ہیں، کیونکہ ہم تقریباً دو ہفتوں سے یہاں موجود ہیں اور ہم نے آئرلینڈ کے خلاف آئرلینڈ ہی میں سیریز بھی کھیلی ہے۔ اب ہمیں صرف اپنے منصوبوں پر بہتر طریقے سے عمل درآمد کرنے اور میدان میں پرسکون رہنے کی ضرورت ہے۔”

وہاب ریاض کی نگرانی میں پاکستان کی جارحانہ حکمتِ عملی

پاکستان کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ ڈبلن میں ہونے والی سہ فریقی سیریز میں ویسٹ انڈیز اور آئرلینڈ کے خلاف اپنے دونوں مکمل میچ ہار گئی تھی۔ اس کے علاوہ پچھلے سال آئرلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی انہیں 2-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ رواں سال فروری میں جنوبی افریقہ کے خلاف بھی وہ 2-1 سے سیریز ہار گئے تھے۔

تاہم، فاطمہ ثنا کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم اب ایک جارحانہ بیٹنگ اسٹائل پر کام کر رہی ہے۔ نیٹس میں سابق پاکستانی فاسٹ بولر اور موجودہ ہیڈ کوچ وہاب ریاض خود کھلاڑیوں کو تیز رفتار اور باؤنس گیندیں کرا رہے ہیں تاکہ وہ تیز بولنگ کا سامنا کرنا سیکھیں۔ فاطمہ نے بتایا: “ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اب جارحانہ مزاج کی بالادستی ہے، اس لیے ہماری کوشش ہے کہ ہم جتنا زیادہ مخالف بولرز پر حاوی ہوں گے، ہمارے لیے اتنی ہی آسانی ہوگی۔ تمام بیٹرز کی کوشش ہے کہ وہ شروع، مڈل اوورز یا آخر میں جارحانہ کھیل پیش کریں کیونکہ آپ جتنا جارحانہ کھیلیں گے، مخالف ٹیم اتنی ہی دباؤ میں آئے گی۔”

انہوں نے وہاب ریاض کے کام کرنے کے انداز پر گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ جہاں رفتار کی ضرورت ہوتی ہے، وہ خود بولنگ کر کے ہماری مدد کرتے ہیں۔ جب آپ کسی سابق کرکٹر کے ساتھ کام کرتے ہیں تو کھیل کی گہری سمجھ بوجھ حاصل ہوتی ہے۔

پاک بھارت روایتی حریفوں کا ریکارڈ اور اعصاب کی جنگ

پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی ٹوئنٹی میچز کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو بھارت کا پلہ ہمیشہ بھاری رہا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 16 میچوں میں سے پاکستان صرف 3 مرتبہ فتح حاصل کر سکا ہے، جس میں آخری فتح انہوں نے 2022 کے ایشیا کپ میں حاصل کی تھی۔

میچ کے دباؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فاطمہ ثنا نے کہا کہ اس میچ کا پہلے ہی بہت زیادہ ہائپ ہے، اس لیے وہ صرف ایک نارمل میچ کی طرح کھیلنا چاہتی ہیں جہاں منصوبوں پر بہتر طریقے سے عمل درآمد کیا جا سکے۔

دوسری طرف ہرمن پریت کور بھی اس ہائی وولٹیج میچ کو عام میچ کی طرح لینے کی خواہشمند ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دباؤ تو ہمیشہ رہتا ہے، لیکن ان کا مقصد کھیل سے لطف اندوز ہونا ہے۔ ہرمن پریت نے جذباتی انداز میں کہا: “میں یہ نہیں کہوں گی کہ دباؤ نہیں ہے، دباؤ بالکل موجود ہے۔ جب سے میں نے کرکٹ دیکھنا شروع کی ہے، بطور مداح میں نے ہمیشہ اس دباؤ کو محسوس کیا ہے، اور اب جب ہم خود کھیلتے ہیں تو یہ اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن ہم ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس کھیل کا جتنا زیادہ لطف اٹھائیں گے، یہ ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا، کیونکہ ہم وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں اس بڑے موقع کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔”

Aarav Bennett
Aarav Bennett

Aarav Bennett is one of the most dynamic voices in modern cricket broadcasting. With a background in Sports Communication from the University of Birmingham and over a decade of experience across international sports networks, Aarav brings a sharp analytical edge to his commentary. His insights into Test and T20 strategies are widely respected, and his engaging delivery keeps audiences captivated. Beyond live coverage, Aarav hosts the popular podcast Inside the Wicket, where he explores the evolution of cricket and interviews players and coaches from around the world.