Bangladesh retain unchanged squad for third ODI against Australia
بنگلہ دیش کا آسٹریلیا کے خلاف تاریخی کامیابی کے بعد فیصلہ
بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ کے لیے وہی ٹیم برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو پہلے دو میچوں میں فاتح رہی تھی۔ ابتدائی طور پر اس اسکواڈ کا اعلان صرف ابتدائی دو میچوں کے لیے کیا گیا تھا، لیکن ٹیم کی شاندار کارکردگی اور تاریخی فتح کے بعد سلیکٹرز نے کسی بھی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مصدق حسین کی واپسی اور ٹیم کا اعتماد
اس اسکواڈ کی سب سے اہم بات آل راؤنڈر مصدق حسین کی ٹیم میں واپسی ہے۔ مصدق نے اپنی واپسی پر جس طرح کا کھیل پیش کیا ہے، اس نے نہ صرف ٹیم کو کامیابی دلائی بلکہ سلیکٹرز کے اعتماد کو بھی درست ثابت کیا ہے۔ ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے ٹیم کے مڈل آرڈر کو مضبوط کیا ہے، جو سیریز کے آخری میچ میں بھی برقرار رہے گا۔
ایک طویل انتظار کا خاتمہ
بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کے خلاف ابتدائی دو میچ جیت کر پہلے ہی سیریز اپنے نام کر لی ہے۔ یہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ٹائیگرز نے 2005 کے بعد سے آسٹریلیا کو ون ڈے سیریز میں شکست نہیں دی تھی۔ اس مسلسل دو کامیابیوں نے 21 سالہ طویل انتظار کو ختم کر دیا ہے اور یہ بنگلہ دیش کی حالیہ برسوں کی یادگار ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
کلین سویپ پر نظریں
اب بنگلہ دیشی ٹیم کی نظریں آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ پر ہیں۔ یہ فیصلہ کن اور آخری میچ 14 جون کو شیرِ بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، میرپور میں کھیلا جائے گا۔ میچ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوگا۔ شائقین کرکٹ اس میچ کے حوالے سے بے حد پرجوش ہیں کیونکہ بنگلہ دیشی ٹیم اپنی ہوم کنڈیشنز میں آسٹریلیا کا مکمل صفایا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
اسکواڈ کی تفصیلات
بنگلہ دیش کا تیسرے ون ڈے کے لیے اسکواڈ: مہدی حسن معراج (کپتان)، سومیہ سرکار، سیف حسن، تنزید حسن تمیم، نجم الحسین شانتو (نائب کپتان)، توحید ہردوئی، لٹن داس، مصدق حسین، نورالحسن سوہن، رشاد حسین، تنویر اسلام، مستفیض الرحمان، تسکین احمد، شریف الاسلام اور ناہید رانا۔
آسٹریلیا کا ون ڈے اسکواڈ: جوش انگلس (کپتان)، زیویئر بارٹلیٹ، ایلکس کیری، کوپر کونولی، بین ڈوارشوس، نیتھن ایلس، کیمرون گرین، میٹ کوہن مین، مارنس لیبوشین، ٹوڈ مرفی، اولی پیک، میٹ رینشا، لیام اسکاٹ، میٹ شارٹ اور ایڈم زیمپا۔
یہ سیریز بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو رہی ہے اور سلیکٹرز کا موجودہ فارم میں ٹیم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ کھلاڑیوں کی کارکردگی اور اعتماد پر کتنا یقین رکھتی ہے۔ میرپور کے میدان میں ہونے والا یہ آخری مقابلہ یقیناً کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک شاندار تجربہ ثابت ہوگا۔
