‘You’re delaying my lunch’ – Williamson revels in final Lord’s bow
لارڈز کے میدان میں کین ولیمسن کا آخری معرکہ
‘You’re delaying my lunch’ – Williamson revels in final Lord’s bow، یہ الفاظ کین ولیمسن کے مخصوص مزاحیہ انداز کی عکاسی کرتے ہیں جب انہیں احساس ہوا کہ انگلینڈ کے خلاف آئندہ پہلا ٹیسٹ لارڈز میں ان کی آخری نمائش ہوگی۔ 35 سالہ اسٹار بیٹر نے ہنستے ہوئے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان سوالات نے ان کے ظہرانے میں تاخیر کر دی ہے۔
ایک شاندار کیریئر کا یادگار پڑاؤ
کین ولیمسن، جنہوں نے 2013 میں لارڈز میں اپنی پہلی ٹیسٹ نمائش کی تھی، جمعرات کو اپنے کیریئر کا 110 واں ٹیسٹ کھیلیں گے۔ لارڈز کا میدان ان کے لیے ہمیشہ سے خاص رہا ہے۔ انہوں نے 2012 میں گلوسٹر شائر کے لیے ایک غیر ملکی کھلاڑی کے طور پر یہاں پہلا پیشہ ورانہ میچ کھیلا تھا۔
روایات اور لارڈز کا منفرد ماحول
ولیمسن لارڈز کی روایات کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذباتی دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا: ‘یہاں کی روایات کو برقرار رکھنے کا طریقہ واقعی خاص ہے۔ لارڈز اپنی تاریخ کے حوالے سے منفرد ہے۔ لانگ روم سے پچ تک چل کر جانا، ممبران سے ملنا اور یہاں کے مشہور ظہرانے، یہ سب چیزیں اسے ناقابل فراموش بناتی ہیں۔’
آنرز بورڈ پر نام اور ماضی کی یادیں
اگرچہ لارڈز میں ولیمسن کی بیٹنگ اوسط 32 کے قریب ہے، جو ان کی مجموعی اوسط سے کم ہے، لیکن ان کا نام لارڈز کے اعزازی بورڈ (Honours Board) پر موجود ہے، یہ وہ اعزاز ہے جو سچن ٹنڈولکر اور برائن لارا جیسے عظیم کھلاڑیوں کو بھی حاصل نہ ہو سکا۔ 2015 کے ٹیسٹ میں ان کی 132 رنز کی اننگز آج بھی شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں تازہ ہے۔
مستقبل کے چیلنجز
اپنے کیریئر کے آخری پڑاؤ پر موجود ولیمسن نیوزی لینڈ کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں بھی فکرمند ہیں۔ 2027 کے بعد کے فیوچر ٹور پروگرام کی عدم موجودگی میں، وہ لارڈز میں اس ہفتے کو ایک آخری یادگار کے طور پر گزارنا چاہتے ہیں۔
نتیجہ
یہ ٹیسٹ نہ صرف نیوزی لینڈ کے لیے بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے بھی ایک اہم موقع ہے کہ وہ ایک عظیم کھلاڑی کو لارڈز کے میدان میں آخری بار ایکشن میں دیکھ سکیں۔ کین ولیمسن کی کرکٹ کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اور لارڈز کا میدان ان کے اس سفر کا ایک انتہائی اہم حصہ رہے گا۔
- کیریئر کا 110 واں ٹیسٹ: ولیمسن ایک سنگ میل عبور کر رہے ہیں۔
- اعزازی بورڈ: ولیمسن کا نام 2015 کی سنچری کے بعد بورڈ میں شامل کیا گیا۔
- جذباتی لگاؤ: لارڈز کی روایات ولیمسن کے لیے ہمیشہ سے متاثر کن رہی ہیں۔
کین ولیمسن کا لارڈز میں آخری ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ بننے جا رہا ہے۔ ان کی موجودگی، ان کا تجربہ اور ان کا کھیل یقیناً اس میچ کو یادگار بنائے گا۔
