Get Cricket New
Cricket News

ویرات کوہلی کا آئی پی ایل کی ‘کونٹینٹ فرسٹ’ پالیسی پر سخت اعتراض

Neha Kapoor · · 1 min read

آئی پی ایل کا ڈیجیٹل کلچر اور کھلاڑیوں کی پریشانی

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے گزشتہ چند سیزنز میں فرنچائزز کی جانب سے سوشل میڈیا پر سرگرمی میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹیموں کی ڈیجیٹل ٹیمیں ہر وقت کھلاڑیوں کے ساتھ موجود رہتی ہیں تاکہ مداحوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مواد (Content) اکٹھا کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ حکمت عملی ٹیموں کی برانڈنگ اور مداحوں کی تعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کے لیے ایک نیا دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔

ویرات کوہلی کا موقف

بھارتی کرکٹ کے لیجنڈ ویرات کوہلی، جو اپنی نجی زندگی کو کیمروں کی آنکھ سے دور رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں، نے اس ‘کونٹینٹ فرسٹ’ کلچر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کوہلی، جو اب اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت لندن میں گزارتے ہیں، صرف انٹرنیشنل کرکٹ اور آئی پی ایل کے لیے بھارت واپس آتے ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا کہ میدان کے باہر کیمروں کی مسلسل موجودگی انتہائی تکلیف دہ ہے۔

کوہلی کا کہنا ہے کہ، ‘میں کھیل کے دوران بننے والے دباؤ سے لطف اندوز ہوتا ہوں، لیکن کسی اور قسم کا دباؤ قبول نہیں کرتا۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مسلسل کوریج کا عمل اب حد سے بڑھ چکا ہے۔’ انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنی تکنیک پر کام کرنے کے لیے آزادی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن جب ہر وقت چھ کیمرے آپ کا پیچھا کر رہے ہوں تو آپ قدرتی انداز میں پریکٹس نہیں کر سکتے۔

پرائیویسی کا فقدان

کوہلی نے ایک دلچسپ مگر تشویشناک واقعہ کا ذکر کیا جب وہ اپنے دوست اور ساتھی کھلاڑی کین ولیمسن سے بات کر رہے تھے۔ اس دوران ایک روبوٹک ڈاگ (Champak) انہیں فلمانے لگا جس سے ان کی نجی گفتگو میں مداخلت ہوئی۔ کوہلی نے کہا، ‘میں کین کے ساتھ ایک سنجیدہ گفتگو کر رہا تھا، اور مجھے اس ڈیوائس کو وہاں سے ہٹانے کے لیے کہنا پڑا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کو بھی آپس میں بات کرنے کے لیے ایک پرسکون ماحول درکار ہوتا ہے۔’

مستقبل کے لیے اصلاحات کی ضرورت

ویرات کوہلی کا ماننا ہے کہ حکام کو اب کھلاڑیوں کے آرام اور پرائیویسی کے لیے واضح ضوابط مرتب کرنے چاہئیں۔ کرکٹ کو محض مواد کی تیاری کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، بلکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی کو ان کے میدان کے اندر کے فیصلوں سے جانچا جانا چاہیے، نہ کہ اس سے کہ وہ پریکٹس کے دوران کیا کر رہے ہیں۔

میدان میں شاندار کارکردگی

اس تمام تر دباؤ کے باوجود، ویرات کوہلی کی فارم پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ موجودہ سیزن میں وہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف ایک شاندار سنچری بھی شامل ہے۔ آئی پی ایل کی تاریخ میں 9 سنچریاں اور 14,000 سے زائد رنز بنانے والے کوہلی اس سیزن میں بھی اورنج کیپ کے مضبوط دعویدار ہیں۔ آر سی بی کی ٹیم پلے آف میں جگہ بنا چکی ہے اور ویرات کی توجہ اب اپنی ٹیم کو دوسرا مسلسل ٹائٹل جتوانے پر مرکوز ہے۔

آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرکٹ صرف ایک بزنس ماڈل نہیں بلکہ ایک کھیل ہے۔ فرنچائزز کو مداحوں کی مصروفیت اور کھلاڑیوں کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ اگر اس ‘کونٹینٹ’ کی بھوک کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف کھلاڑیوں کی ذہنی صحت بلکہ کھیل کے معیار پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔