Sooryavanshi targeting Test cricket? Young batter’s conversation with Gavaskar c
آئی پی ایل 2026 کا نیا سپر اسٹار: ویبھو سوریونشی
آئی پی ایل 2026 کا سیزن رائل چیلنجرز بنگلورو کی تاریخی فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، لیکن اس ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی دریافت 15 سالہ نوجوان بلے باز ویبھو سوریونشی ثابت ہوئے۔ بہار سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنا کر اور کئی ایوارڈز اپنے نام کر کے کرکٹ ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
سنیل گواسکر کے ساتھ اہم گفتگو
احمد آباد میں کھیلے گئے فائنل کے بعد، کرکٹ کے لیجنڈ سنیل گواسکر اور ویبھو سوریونشی کے درمیان ہونے والی گفتگو نے شائقین میں نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں۔ جب گواسکر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی ٹی ٹوئنٹی کامیابیوں کے بعد اب گراؤنڈ شاٹس پر توجہ دے رہے ہیں، تو سوریونشی نے غیر متوقع انکشاف کیا۔
ویبھو نے کہا، “ہاں، میں ایسا کر رہا ہوں کیونکہ میرا اگلا ہدف ون ڈے سیریز ہے۔ اس کے علاوہ، میں ریڈ بال (ٹیسٹ کرکٹ) کی مشق بھی کر رہا ہوں۔ ابھی تک کسی نے مجھے ایسا کرتے نہیں دیکھا، لیکن بہت جلد سب دیکھ لیں گے۔”
ٹی ٹوئنٹی کا جارحانہ انداز بمقابلہ ٹیسٹ کرکٹ
ویبھو سوریونشی نے واضح کیا کہ ان کی جارحانہ بیٹنگ صرف ٹی ٹوئنٹی کی ضرورت ہے نہ کہ ان کی مجبوری۔ انہوں نے کہا، “سب کو لگتا ہے کہ میں صرف ہر گیند کو مارنے والا کھلاڑی ہوں، لیکن مجھے کوچز نے ٹی ٹوئنٹی میں آزادی دی ہے۔ میری سوچ صرف یہ ہے کہ اگر گیند رینج میں ہو تو اسے ہٹ کروں، میں زبردستی لافٹڈ شاٹس نہیں کھیلتا۔”
یاد رہے کہ اس سیزن میں راجستھان رائلز کے اس اوپنر نے 72 چھکے لگائے، جس سے انہوں نے کرس گیل کا 2012 کا 59 چھکوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
ٹیسٹ کرکٹ کا خواب اور چیلنجز
ویبھو نے اپنے مستقبل کے مقاصد پر بات کرتے ہوئے کہا، “میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں۔ میرے والد ہمیشہ کہتے ہیں کہ اصل فارمیٹ پانچ روزہ ٹیسٹ میچ ہی ہے۔ میں نے رنجی ٹرافی کھیلی ہے، حالانکہ مجھے زیادہ مواقع نہیں ملے، لیکن یہ ایک چیلنج ہے اور میں اپنے کھیل پر کام جاری رکھوں گا۔”
سچن ٹنڈولکر کی حمایت
بھارتی کرکٹ کے عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر نے بھی اس نوجوان کی تعریف کی ہے۔ کرک انفو کے ایک پروگرام کے دوران سچن نے کہا، “اس طرح کے باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ اگر وہ اچھا کر رہا ہے تو ہمیں اسے بغیر کسی دباؤ کے اپنے کھیل سے لطف اندوز ہونے دینا چاہیے۔”
سچن نے مزید کہا، “اگرچہ سلیکٹرز کو کھلاڑی منتخب کرنے کا مشورہ دینا میرا کام نہیں ہے، لیکن اجیت اگرکر (سلیکٹر) کے سامنے یہ بات کرنا احتیاط طلب ہے، تاہم میں خود ویبھو کو کسی نہ کسی مرحلے پر ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے پرجوش ہوں۔”
نتیجہ
ویبھو سوریونشی کا عزم اور ان کے کھیل کے تئیں سنجیدگی ظاہر کرتی ہے کہ وہ صرف آئی پی ایل کے ہیرو بن کر نہیں رہنا چاہتے۔ ان کی توجہ اب طویل فارمیٹ پر مرکوز ہے، اور اگر انہیں مناسب مواقع ملے، تو بھارتی کرکٹ کو ایک ایسا ستارہ مل سکتا ہے جو ہر فارمیٹ میں اپنی چھاپ چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
