Shaheen Afridi on Pakistan quicks losing speed: ‘Machines deteriorate with time’ – شاہین آفریدی کا پاکستانی فاسٹ بولرز کی رفتار میں کمی پر ردعمل
پاکستان کرکٹ میں رفتار کا بحران
پاکستان کرکٹ کی تاریخ ہمیشہ سے دنیا کو تیز ترین فاسٹ باؤلرز فراہم کرنے کے لیے جانی جاتی رہی ہے۔ تاہم، حالیہ عرصے میں قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلرز کی رفتار میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس نے شائقین اور کرکٹ ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ راولپنڈی میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے آغاز سے قبل، ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے اس معاملے پر اہم انکشافات کیے ہیں۔
مشینیں وقت کے ساتھ پرانی ہو جاتی ہیں
شاہین آفریدی نے اپنی اور ٹیم کے دیگر ساتھیوں کی رفتار میں کمی کا موازنہ ایک مشین سے کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جسم بھی مشین کی طرح ہے جو مسلسل استعمال کے بعد اپنی کارکردگی کھو دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کا جسم مسلسل کرکٹ کھیلتا رہتا ہے تو اس کی رفتار برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آفریدی کے مطابق، جب باؤلر کو مناسب آرام ملے تو وہ اپنی رفتار میں دوبارہ اضافہ کر سکتا ہے، لیکن پاکستانی باؤلرز کا شیڈول اتنا مصروف ہے کہ انہیں ریکوری کا موقع کم ملتا ہے۔
این سی اے کا لائحہ عمل
شاہین نے مزید بتایا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی (NCA) اور ٹیم مینجمنٹ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ باؤلرز کے ورک لوڈ کو بہتر طریقے سے منظم کیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی بہترین رفتار اور فٹنس کے ساتھ کھیل سکیں۔ انہوں نے بنگلہ دیشی باؤلر ناہید رانا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی رفتار اس لیے بہتر ہے کیونکہ وہ ابھی بین الاقوامی کرکٹ میں نئے ہیں اور ان پر کام کا بوجھ اس طرح نہیں ہے جیسا کہ سینئر کھلاڑیوں پر ہے۔
محمد رضوان کی ٹیم سے ڈراپ ہونے پر وضاحت
ایک اور اہم سوال جو پریس کانفرنس کے دوران اٹھایا گیا وہ محمد رضوان کی ون ڈے ٹیم سے غیر موجودگی تھی۔ شاہین آفریدی نے واضح کیا کہ رضوان کو ٹیم سے نکالنے کا مطلب ان کا کیریئر ختم ہونا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹرز کا مقصد ورلڈ کپ سے قبل نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا ہے تاکہ ایک بڑا پول تیار کیا جا سکے۔ آفریدی نے خود رضوان سے اس معاملے پر بات کی ہے اور انہیں پر اعتماد رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
مستقبل کے چیلنجز
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نوجوان کھلاڑیوں جیسے روحیل نذیر، عرفات منہاس اور احمد دانیال کو موقع دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیم کا فوکس مستقبل کے عالمی ایونٹس پر ہے۔ شاہین آفریدی کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کا ڈراپ ہونا کرکٹ کا حصہ ہے، جیسا کہ بابر اعظم اور خود ان کے ساتھ بھی ماضی میں ہو چکا ہے۔
نتیجہ
پاکستانی فاسٹ باؤلرز کے لیے رفتار کا یہ سفر صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ورک لوڈ مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کی ذہنی و جسمانی صحت کا گہرا تعلق ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ این سی اے کی نئی حکمت عملی سے پاکستانی باؤلرز دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی رفتار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کرکٹ شائقین اب لاہور میں ہونے والے ون ڈے میچوں میں ٹیم کی کارکردگی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
