Cricket Canada draws up ‘comprehensive’ plan in bid to overturn ICC suspension
کرکٹ کینیڈا کا آئی سی سی کی رکنیت بحال کروانے کے لیے اہم قدم
کرکٹ کینیڈا نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے عائد کردہ معطلی کو ختم کروانے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔ حال ہی میں آئی سی سی نے کینیڈا کی ایسوسی ایٹ رکنیت کو ‘ممبرشپ ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزیوں’ کی بنیاد پر معطل کر دیا تھا، جس کے بعد سے کینیڈین کرکٹ بورڈ بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے۔
معطلی کی بنیادی وجوہات
آئی سی سی کی جانب سے یہ اقدام گورننس کے ڈھانچے، مالیاتی نگرانی اور انتظامی عمل میں پائے جانے والے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا تھا۔ یہ معطلی کینیڈین کرکٹ کے لیے ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب بورڈ گزشتہ کچھ عرصے سے اندرونی خلفشار کا شکار رہا ہے۔ اس دورانیے میں سابق سی ای او سلمان خان کی تقرری اور پھر ان کی برطرفی کا معاملہ بھی شامل ہے، جن پر مبینہ طور پر کرمنل چارجز اور دھوکہ دہی کے الزامات ہیں۔
کرپشن کے الزامات اور تحقیقات
صرف انتظامی مسائل ہی نہیں، بلکہ کینیڈا کی ٹیم کو آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات کا بھی سامنا ہے۔ یہ تحقیقات رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ، سابق کوچ خرم چوہان کی ایک لیک ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ نے بھی بورڈ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، جس میں مبینہ طور پر بورڈ کے سابق ارکان پر ٹیم کے انتخاب میں مداخلت کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
نئے بورڈ کی اصلاحاتی کوششیں
کرکٹ کینیڈا کے چیف آپریٹنگ آفیسر، بھوجیت جوہر کے مطابق، موجودہ بورڈ کا ان تمام تنازعات سے براہِ راست تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “گورننس اور مالیاتی کنٹرول کے زیادہ تر خدشات اپریل/مئی کے انتخابات سے قبل کے ہیں۔ نیا بورڈ ان پرانی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے پرعزم ہے۔” کرکٹ کینیڈا نے آئی سی سی کو مطلع کیا ہے کہ وہ ساختی اور انتظامی اصلاحات کے عمل کو شروع کر چکے ہیں۔
آئندہ کا لائحہ عمل
بورڈ کی جانب سے ایک انڈیپینڈنٹ کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی وکیل ڈاشا پیریگوڈووا کر رہی ہیں۔ یہ کمیٹی آئی سی سی کی جانب سے اٹھائے گئے تمام نکات کی تحقیقات کرے گی اور 45 دنوں کے اندر اپنی مکمل رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کو مالیاتی ریکارڈز اور دیگر دستاویزات تک بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہوگی۔
مزید برآں، کرکٹ کینیڈا اب آئی سی سی کی نارملائزیشن کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ اور آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ شامل ہیں۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ بروقت اصلاحات اور شفافیت کے ذریعے وہ آئی سی سی کا اعتماد دوبارہ حاصل کر لیں گے اور بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کروا سکیں گے۔
نتیجہ
اگرچہ معطلی کا فیصلہ کرکٹ کینیڈا کے لیے غیر متوقع تھا، تاہم بورڈ نے آئی سی سی کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر اصلاحاتی عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرکٹ کینیڈا کی قیادت کو امید ہے کہ ان کی جانب سے پیش کردہ جامع پلان آئی سی سی کے حکام کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہے گا اور کینیڈا جلد ہی دوبارہ کرکٹ کے میدانوں میں اپنی کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گا۔
