Get Cricket New
Bangladesh Cricket

باصط علی کا بڑا بیان: ناہید رانا بنگلہ دیش کے شعیب اختر ہیں

Neha Kapoor · · 1 min read

باصط علی کا ماننا ہے کہ ناہید رانا بنگلہ دیش کے لیے شعیب اختر ثابت ہو سکتے ہیں

سیلٹ ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کی مضبوط پوزیشن کے بعد، سابق پاکستانی کرکٹر باصط علی نے بنگلہ دیشی بولنگ اٹیک کی تعریف کی ہے اور ساتھ ہی پاکستان کی موجودہ ٹیم سلیکشن اور کوچنگ کے معیار پر شدید تنقید کی ہے۔ اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے ناہید رانا، تسکین احمد اور شریف الاسلام کی کارکردگی کو سراہا۔

پاکستان کی مشکلات اور ناہید رانا کا خوف

باصط علی کے مطابق، میچ کے تیسرے دن کے اختتام پر پاکستان کے نوجوان بلے بازوں کے لیے کنڈیشنز بہت مشکل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بادلوں کے باعث گیند بہت زیادہ سوئنگ ہو رہی تھی، جس نے بلے بازوں پر دباؤ ڈالا۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستانی بلے باز ناہید رانا جیسے بولرز کے خلاف درست حکمت عملی نہیں اپناتے تو مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا، “ناہید رانا واقعی بنگلہ دیش کے شعیب اختر ہیں۔ اگر وہ وکٹ کے چاروں طرف سے باؤنسرز کا استعمال شروع کر دیں تو بلے بازوں کے لیے سنبھلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔”

کوچنگ اور سلیکشن پر سوالات

باصط علی نے بنگلہ دیشی بولنگ کوچ شان ٹیٹ کے حوالے سے پاکستان پر تنقید کی کہ پاکستان نے انہیں جانے دیا، جبکہ وہ اب بنگلہ دیش کے لیے بہترین نتائج دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساجد خان کو ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ غیر منطقی تھا، کیونکہ وہ باقاعدگی سے وکٹیں لینے والے بولر نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے دباؤ میں آ کر ٹیم سلیکشن کرنا درست عمل نہیں ہے۔

پاکستانی بلے بازوں کے لیے مشورہ

سابق کرکٹر نے پاکستانی بلے بازوں کو مشورہ دیا کہ وہ سیشن بائی سیشن کھیلیں۔ انہوں نے کہا کہ بلے بازوں کو کریز پر وقت گزارنے اور میرٹ پر کھیلنے کی ضرورت ہے۔ “آپ ایک اوور میں دو چھکے مار کر سلپ میں کیچ نہیں دے سکتے، آپ کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا،” انہوں نے مزید کہا۔

بولنگ اٹیک اور حکمت عملی

باصط علی نے شریف الاسلام اور تسکین احمد کی سیم بولنگ کو ان کی اصل پہچان قرار دیا۔ انہوں نے تاکید کی کہ پاکستان کو ناہید رانا کے ساتھ ساتھ مہدی حسن میراز اور تیج الاسلام کے لیے بھی الگ الگ پلان بنانے ہوں گے۔ انہوں نے بیٹنگ کوچنگ اسٹاف کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کھلاڑیوں کے ساتھ بیٹھ کر تکنیکی غلطیوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

نتیجہ

باصط علی کے مطابق پاکستان کو اگر اس ٹیسٹ میں واپس آنا ہے تو نوجوان بلے بازوں کو ایک بڑی شراکت قائم کرنی ہوگی۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ٹیم اپنی سلیکشن کی غلطیوں کو سدھارے اور بولنگ اٹیک کے خلاف تحمل سے کھیلے، تبھی میچ کا نتیجہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ تاہم، ناہید رانا کی رفتار اور باؤنسرز کے سامنے پاکستانی بلے بازوں کی کارکردگی اس میچ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگی۔