Get Cricket New
Bangladesh Cricket

پاکستان کے بالرز کی رفتار کیوں کم ہو رہی ہے؟ امر گل کی وضاحت

Zain Ali · · 1 min read

پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جب وہ تیز رفتار فاسٹ بالرز پیدا کرنے والی قوم ہونے کے باوجود، اب 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو بھی یقینی طور پر برقرار نہیں رکھ پا رہی۔ اس تناظر میں، سابق فاسٹ بالر اور موجودہ کوچنگ اسٹاف کے رکن امر گل نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ یہ مسئلہ صرف بالرز کی صلاحیت کا نہیں، بلکہ کرکٹ کے ایک فارمیٹ تک محدود تیاری کا بھی ہے۔

بانگلہ دیش بیٹرز نے بہترین کارکردگی دکھائی

امر گل نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بالنگ کی کارکردگی کو صرف ناکامی کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانگلہ دیش کے بیٹرز نے اس سیریز میں ناقابل شکست کھیل پیش کیا ہے، جس نے پاکستانی بالرز پر دباؤ ڈالا۔ ساتھ ہی، کچھ مواقع پر پاکستان کی قسمت بھی ساتھ نہیں دی۔

“بانگلہ دیش کے بیٹرز بہت اچھی بیٹنگ کر رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔ “ہم کچھ معاملات میں بدقسمت بھی رہے۔ ریویوز میں ہم نے موقع ضائع کیا، لٹن ڈاس کو نہ آؤٹ کرنے میں بھی اس کا عمل دخل تھا۔ لیکن یہ کرکٹ کا حصہ ہے۔ کبھی قسمت آپ کے ساتھ ہوتی ہے، کبھی نہیں۔ بالرز نے پوری کوشش کی، لیکن نتائج ہمارے حق میں نہیں آئے۔”

کیا پاکستانی بالرز کی رفتار میں مستقل کمی آئی ہے؟

ایک سوال کے جواب میں جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی فاسٹ بالرز کی رفتار میں کمی واقعی مستقل ہو چکی ہے، تو امر گل نے واضح طور پر اس بات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ بال کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں اب بھی متعدد بالرز 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ رہے ہیں۔

“ہمارے پاس اب بھی وہ بالرز موجود ہیں جو پی ایس ایل اور ون ڈے کرکٹ میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکتے ہیں،” انہوں نے کہا۔ “لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں رفتار میں معمہ سا فرق آ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس فارمیٹ میں کھیلنے کا موقع کم ملتا ہے۔”

ٹیسٹ کرکٹ کا فقدان اور تیاری کا نظام

گل کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں لمبے اوورز ڈالنے، جسمانی دباؤ برداشت کرنے اور ذہنی طور پر پرفارم کرنے کے لیے ایک خاص قسم کی تیاری درکار ہوتی ہے۔ جب یہ تسلسل ختم ہو جائے، تو بالرز کے “بالنگ مسلز” اور “بالنگ میموری” دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

  • پاکستان نے آخری بار اکتوبر میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلی تھی۔
  • اس کے بعد چھ ماہ سے زائد کا وقفہ آیا۔
  • اس وقفے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی مشکل ثابت ہوئی۔
  • موسم کی شدت، خاص طور پر گرمی اور نمی بھی کارکردگی پر اثر انداز ہوئی۔

تیاری کی عدم کمی کا اعتراف

امر گل نے اعتراف کیا کہ اگر بانگلہ دیش کے دورے سے قبل ٹیسٹ فارمیٹ میں مزید پریکٹس میچز کھیلے جاتے، تو حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ لیکن اس کے لیے وقت اور مواقع نہیں تھے۔

“کسی بھی سیریز سے پہلے اس فارمیٹ میں تیاری ضروری ہوتی ہے۔ لیکن شیڈولنگ کی وجہ سے، پی ایس ایل اور دیگر فرائض کی وجہ سے ہم ان کھلاڑیوں کے ساتھ کام کر رہے تھے جو کیمپ میں تھے۔ اس کے بعد ہمیں میچ پریکٹس کا بھی مناسب موقع نہیں ملا۔ کراچی میں بھی حالات بہت گرم تھے۔”

کل ملا کر، امر گل کی وضاحت یہ ہے کہ پاکستانی بالرز کی رفتار میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ قوم میں فاسٹ بالنگ کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ بلکہ مسئلہ فارمیٹ کی تبدیلی، ٹیسٹ کرکٹ کے فقدان، اور عدم تیاری کا ہے۔ جب ٹیسٹ کرکٹ کو دوبارہ اولیت دی جائے گی، تو پاکستان دوبارہ تیز رفتار بالرز کی فیکٹری ثابت ہو سکتی ہے۔

Avatar photo
Zain Ali

Zain Ali tracks cricket schedules, tournament fixtures, venue details, and upcoming IPL match timelines.