آئی سی سی کی کرکٹ کینیڈا پر پابندیاں: بدعنوانی اور فکسنگ کے سنگین الزامات
کرکٹ کینیڈا کے لیے ایک بڑا جھٹکا
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے حال ہی میں کرکٹ کینیڈا کے خلاف ایک سخت ایکشن لیتے ہوئے ان کی تمام مالی تقسیم کو اگلے چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بورڈ کے اندر موجود گورننس کے سنگین مسائل اور انتظامی ناکامیوں کے بعد کیا گیا ہے۔ اگرچہ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے میدان میں کھیلے جانے والے میچز یا ہائی پرفارمنس پروگرام براہ راست متاثر نہیں ہوں گے، تاہم ایک ایسوسی ایٹ ممبر کے طور پر کینیڈا کے لیے یہ ایک بڑا مالی دھچکا ہے۔
آئی سی سی کی سخت نگرانی میں اضافے کی وجہ
کرکٹ کینیڈا واحد بورڈ نہیں ہے جسے حالیہ عرصے میں آئی سی سی کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل ستمبر 2025 میں یو ایس اے کرکٹ کی رکنیت بھی آئینی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی اور گورننس کے مسائل کی وجہ سے معطل کی گئی تھی۔ اسی طرح سری لنکا اور زمبابوے کرکٹ بورڈز بھی ماضی میں حکومتی مداخلت اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث آئی سی سی کی سخت کارروائیوں کی زد میں آ چکے ہیں۔
مالی انحصار کا بحران
کرکٹ کینیڈا کی مالی مشکلات اس لیے بھی تشویشناک ہیں کیونکہ بورڈ کا آئی سی سی کی فنڈنگ پر انحصار بہت زیادہ ہے۔ سال 2024 کی مالیاتی رپورٹس کے مطابق، بورڈ کی کل آمدنی کا 63 فیصد حصہ (تقریباً 3.6 ملین کینیڈین ڈالر) آئی سی سی کی طرف سے آتا ہے۔ ایسے میں چھ ماہ تک فنڈز کی بندش ایک ایسی تنظیم کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے جس کے پاس اپنی تجارتی آمدنی کے ذرائع انتہائی محدود ہیں۔
بدعنوانی اور میچ فکسنگ کے الزامات
کرکٹ کینیڈا کے زوال کی کہانی صرف انتظامی ناکامی تک محدود نہیں ہے۔ تحقیقاتی پروگرام ‘دی ففتھ اسٹیٹ’ کے مطابق، بورڈ کے اندر مالی بے ضابطگیوں اور پالیسیوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔
- سابق سی ای او تنازعہ: سابق سی ای او سلمان خان کی تقرری پر آئی سی سی نے اس وقت سوالات اٹھائے جب یہ انکشاف ہوا کہ انہوں نے اپنی سابقہ مجرمانہ چارجز کی معلومات چھپائی تھیں۔ وہ اب چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
- میچ فکسنگ کے سائے: سابق کوچ خرم چوہان کی ایک آڈیو کال لیک ہوئی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ بورڈ کے اعلیٰ حکام انہیں مخصوص کھلاڑیوں کے انتخاب پر مجبور کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ بھی آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات کی زد میں ہے۔
اصلاحات کے باوجود آئی سی سی کا سخت موقف
کرکٹ کینیڈا نے 9 اور 10 مئی کو اپنی سالانہ جنرل میٹنگ میں گورننس کی تبدیلی کا اعلان کیا تھا اور اروندر کھوسہ کو نیا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم، آئی سی سی کی جانب سے فوراً بعد پابندی کا اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی کرکٹ کی نگران باڈی کینیڈا کی طرف سے کی جانے والی نام نہاد اصلاحات سے مطمئن نہیں ہے۔ آنے والے چھ ماہ کینیڈین کرکٹ کے مستقبل کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا بورڈ اپنی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔
