‘High-quality’ Saleem limits damage despite extreme heat and unhelpful pitch
محمد سلیم کی شاندار کارکردگی
نئی چندی گڑھ میں کھیلے جانے والے واحد ٹیسٹ میچ میں افغانستان کے فاسٹ بولر محمد سلیم نے اپنی شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ناقدین کے دل جیتے بلکہ اپنی ٹیم کو ایک بڑے بحران سے بھی بچایا۔ شدید گرمی اور ایسی پچ پر جہاں سیمرز کے لیے مدد نہ ہونے کے برابر تھی، سلیم نے 140 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
گرمی اور پچ کے چیلنجز
ایک ایسے دن جب درجہ حرارت انتہائی زیادہ تھا، محمد سلیم نے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل بولنگ کی۔ ان کی یہ کوشش اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی جب بھارتی بلے بازوں نے افغان بولنگ لائن کو مشکلات میں ڈال رکھا تھا۔ سلیم نے نہ صرف تجربہ کار بلے بازوں کو آؤٹ کیا بلکہ اپنی درست لائن اور لینتھ پر مستقل مزاجی برقرار رکھی۔
کوچ اور کھلاڑیوں کی تعریف
افغانستان کے ہیڈ کوچ رچرڈ پائبس نے سلیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی اور اعلیٰ پائے کی بیٹنگ کے خلاف 6 وکٹیں حاصل کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلیم نے اپنی لینتھ کو برقرار رکھا، جو کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی کی کلید ہے۔ دوسری جانب بھارتی آل راؤنڈر واشنگٹن سندر نے بھی سلیم کی بولنگ کو ‘ہائی کوالٹی’ قرار دیا۔ سندر کا ماننا تھا کہ پچ میں سیمرز کے لیے کچھ خاص نہیں تھا، لیکن سلیم نے اپنی مہارت سے گیند کو سیم کروا کر وکٹیں حاصل کیں۔
ڈی آر ایس (DRS) کے استعمال میں کوتاہی
اگرچہ محمد سلیم نے بہترین بولنگ کی، لیکن افغانستان کی ٹیم کے لیے یہ میچ مزید بہتر ہو سکتا تھا اگر وہ ڈی آر ایس (DRS) کا بروقت استعمال کرتے۔ میچ کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں افغانستان نے اپیلیں کیں لیکن امپائر کی جانب سے ‘ناٹ آؤٹ’ قرار دیے جانے کے باوجود ریویو نہیں لیا گیا، جس کے نتیجے میں بھارتی بلے بازوں کو فائدہ پہنچا۔ کوچ رچرڈ پائبس نے اس حوالے سے اعتراف کیا کہ ٹیم کی فیصلہ سازی میں کمزوری نظر آئی۔
میچ کی موجودہ صورتحال
بھارت نے اپنی پہلی اننگز 564 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کی، جس کے جواب میں افغان بلے بازوں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ دوسرے دن کے اختتام پر افغانستان کا سکور 113 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ تھا اور وہ بھارت سے اب بھی 451 رنز پیچھے ہیں۔ سلیم کی بولنگ نے اگرچہ میچ میں افغانستان کو کچھ دیر کے لیے زندہ رکھا، لیکن اب بلے بازوں کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی تاکہ فالو آن کے خطرے سے بچا جا سکے۔
نتیجہ
محمد سلیم کا یہ سپیل مستقبل کے لیے افغانستان کرکٹ کے لیے ایک مثبت پہلو ہے۔ شدید دباؤ میں پرسکون رہنا اور اپنی بنیادی تکنیک پر کاربند رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سلیم آنے والے وقت میں افغان بولنگ اٹیک کی قیادت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٹیم کو اب اپنی فیلڈنگ اور فیصلہ سازی کی غلطیوں کو سدھارنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بڑی ٹیموں کے خلاف مزید بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
