Get Cricket New
Report

Ashton Turner half-century guides Foxes to victory at Hove – لیسٹر شائر کی ہوو میں فتح

Neha Kapoor · · 1 min read

وائٹلٹی بلاسٹ: ایشٹن ٹرنر کی نصف سنچری نے فاکسز کو ہوو میں فتح دلائی

وائٹلٹی بلاسٹ کے ایک انتہائی اہم مقابلے میں، لیسٹر شائر فاکسز نے سسیکس شارکس کو چار وکٹوں سے شکست دے کر اپنی مہم میں ایک ضروری فتح حاصل کی۔ اس فتح کے معمار آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر تھے جنہوں نے ایک لاجواب ناقابل شکست نصف سنچری بنا کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ یہ ٹرنر کے ٹی 20 کیریئر کی 20ویں نصف سنچری تھی اور اس نے ایک سنسنی خیز میچ کو لیسٹر شائر کے حق میں بدل دیا۔ یہ میچ ہوو میں کھیلا گیا جہاں دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے کوشاں تھیں۔

سسیکس شارکس کی اننگز: ایک مضبوط آغاز اور پھر اچانک گراوٹ

میچ کا آغاز سسیکس شارکس کے لیے انتہائی شاندار رہا۔ اوپنرز ہیریسن وارڈ اور ڈین ہیوز نے اپنی ٹیم کو ایک ٹھوس بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے نو اوورز میں 98 رنز کی افتتاحی شراکت قائم کی، جس سے یہ لگ رہا تھا کہ سسیکس ایک بڑا اسکور کھڑا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ہیریسن وارڈ نے خاص طور پر جارحانہ انداز اپنایا اور اپنی کیریئر کی بہترین 69 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں پانچ چھکے شامل تھے۔ وہ بلا خوف کھیل رہے تھے اور لیسٹر شائر کے باؤلرز کو پریشان کر رہے تھے۔

تاہم، سسیکس کے لیے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ ایک بار پھر ایک واقف کہانی ثابت ہوئی۔ جب بائیں ہاتھ کے اسپنر لیام ٹریوسکس نے وارڈ کو لانگ آف پر کیچ آؤٹ کرایا، تو اننگز ایک واقف پستی میں گر گئی۔ یہ وارڈ کی اس طرح کی تین اننگز میں سے تیسری تھی جہاں انہوں نے اپنی ٹیم کو 98، 67 اور 98 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ دی لیکن ٹیم فتح سے ہمکنار نہ ہو سکی۔ سسیکس نے ایک بار پھر موقع گنوا دیا۔

وارڈ کے آؤٹ ہونے کے بعد، سسیکس کی بیٹنگ لائن اپ مکمل طور پر بکھر گئی۔ ٹریوسکس اور آف اسپنر ایشٹن ٹرنر نے رن ریٹ کو کنٹرول کر لیا اور جب بھی سسیکس کے بلے بازوں نے رفتار بڑھانے کی کوشش کی، انہیں وکٹ سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ٹرنر نے ہیوز کو 25 رنز پر لانگ آن پر کیچ آؤٹ کرایا، جبکہ ٹریوسکس نے 27 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کرکے مڈل آرڈر کو تباہ کیا۔ پچھلے میچ میں ہیمپشائر کے خلاف، سسیکس نے دس اوورز میں 55 رنز کے عوض نو وکٹیں گنوائی تھیں، اور اس بار کہانی کچھ مختلف نہ تھی، جہاں انہوں نے 11.3 اوورز میں 84 رنز کے عوض دس وکٹیں گنوائیں۔

لیسٹر شائر کی فیلڈنگ اس مرحلے تک بے عیب تھی، لیکن 18ویں اوور میں ٹام سکریوین نے ٹام ایلسوپ کا ڈیپ مڈ وکٹ پر کیچ گرا دیا۔ ایلسوپ، جنہوں نے ابھی ابھی جوش ڈیوی کی گیند پر سکور بورڈ کی چھت پر چھکا لگایا تھا، نے ٹام پرائس کے ساتھ مل کر 19 گیندوں پر 34 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی، لیکن اس کے بعد مزید ایک گراوٹ نے انہیں پریشان کیا۔ آخری چار وکٹیں چھ گیندوں میں گر گئیں، اور سسیکس کی پوری ٹیم 19.5 اوورز میں 179 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ یہ دوسرا میچ تھا جہاں سسیکس اپنے 20 اوورز مکمل نہیں کر سکی۔

لیسسٹر شائر کی تعاقب: ٹرنر کی دلیرانہ اننگز

180 رنز کا ہدف بظاہر قابل حصول تھا، لیکن لیسٹر شائر نے بھی اپنی اننگز کے ابتدائی حصے میں باقاعدگی سے وکٹیں گنوائیں۔ ایک موقع پر، 13ویں اوور میں 118 کے سکور پر 5 وکٹیں گرنے کے بعد، میچ کا پانسہ کسی بھی طرف پلٹ سکتا تھا۔ لیکن یہی وہ لمحہ تھا جب ایشٹن ٹرنر نے قیادت سنبھالی۔

ٹرنر نے اپنے کپتان بین گرین کے ساتھ مل کر 20 گیندوں پر 41 رنز کی تیز رفتار شراکت قائم کی، جس نے تعاقب کا راستہ ہموار کر دیا۔ ٹرنر نے ایک شاندار اننگز کھیلی، جہاں انہوں نے صرف 28 گیندوں پر 57 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں چھ چوکے اور تین بلند و بالا چھکے شامل تھے، جو ان کی مہارت اور طاقت کا ثبوت تھے۔ یہ ان کی اس سیزن میں دوسری نصف سنچری تھی۔ ٹرنر نے اپنی ٹیم کو 14 گیندیں باقی رہتے ہی فتح سے ہمکنار کرایا، اور ان کی کارکردگی نے میچ کا رخ مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔

سسیکس کے لیے، بائیں ہاتھ کے باؤلر شان ہنٹ نے اپنے ٹی 20 ڈیبیو پر دو وکٹیں حاصل کیں، لیکن انہوں نے پانچ وائیڈز اور دو نو بالز بھی کیں، جو میزبان ٹیم کے لیے ایک اور مایوس کن رات ثابت ہوئی۔

نتیجہ

یہ فتح لیسٹر شائر فاکسز کے لیے انتہائی اہم تھی، کیونکہ اس نے انہیں ٹورنامنٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں مدد دی۔ ایشٹن ٹرنر کی کارکردگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ ٹی 20 کرکٹ میں کتنے خطرناک بلے باز ہیں۔ دوسری طرف، سسیکس شارکس کو اپنی بیٹنگ لائن اپ میں گراوٹ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے اوپنرز کی اچھی کارکردگی کے باوجود، مڈل اور لوئر آرڈر کی ناکامی انہیں لگاتار میچز میں مہنگی پڑ رہی ہے۔ یہ میچ ایشٹن ٹرنر کی شاندار بلے بازی کے لیے یاد رکھا جائے گا، جس نے لیسٹر شائر کو مشکل صورتحال سے نکال کر فتح سے ہمکنار کیا۔