Get Cricket New
News

Ollie Robinson was ‘nowhere near ready for Ashes’ despite stunning comeback disp – انگلینڈ کرکٹ اپڈیٹ

Neha Kapoor · · 1 min read

لارڈز ٹیسٹ میں اولی رابنسن کی تاریخی واپسی

انگلینڈ کے فاسٹ بولر اولی رابنسن نے ڈھائی سال کے طویل وقفے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں ایک یادگار اور شاندار واپسی کی ہے۔ لارڈز کے تاریخی میدان پر نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ کے پہلے ہی دن رابنسن نے اپنی غیر معمولی بولنگ سے تباہی مچا دی۔ نرسری اینڈ سے نئی گیند سنبھالتے ہوئے انہوں نے کیوی بیٹنگ لائن کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اپنی اس شاندار کارکردگی کے باوجود انہوں نے ماضی کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور حقیقت پسندانہ انکشاف کیا ہے جس نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پہلے اوور میں تین وکٹیں اور تاریخی ریکارڈ

میچ کے پہلے دن پچ پر بولرز کا راج رہا اور مجموعی طور پر 16 وکٹیں گریں۔ انگلینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں محض 140 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی، جس کے بعد ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ پر گرفت مضبوط کر لے گی۔ لیکن اولی رابنسن کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ انہوں نے اپنے اسپیل کے پہلے ہی اوور میں تین وکٹیں حاصل کر کے میڈن اوور کروایا۔ اس کے بعد اپنے ابتدائی چھ اوورز کے اسپیل میں ایک اور وکٹ حاصل کر کے انہوں نے نیوزی لینڈ کا اسکور 61 رنز پر 6 وکٹیں کر دیا۔ اب کیوی ٹیم انگلینڈ کے اسکور سے اب بھی 79 رنز پیچھے تھی۔

میچ کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے رابنسن نے کہا کہ انہوں نے اپنے پورے کرکٹ کیریئر میں لارڈز کے میدان پر نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز کین ولیمسن کو دوسری ہی گیند پر صفر پر آؤٹ کرنے کے بعد جتنا شور سنا، اس سے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ شارٹ لیگ پر ولیمسن کا کیچ لپکے جانے کے بعد تماشائیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ رابنسن نے کہا، “ایک لمحہ ایسا تھا جب مجھے ہجوم کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی، میں بالکل ساتویں آسمان پر تھا اور میری ٹانگیں سن ہو چکی تھیں۔ میں خود کو پرسکون کرنے اور اس لمحے پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ اپنی لائن اور لینتھ برقرار رکھ سکوں۔”

ووبل سیم بولنگ کی شاندار حکمت عملی

اولی رابنسن کی گیند بازی میں جو چیز سب سے نمایاں تھی، وہ ان کی پچ پر گیند کو گرانے کی لینتھ اور سیم موومنٹ پر غیر معمولی کنٹرول تھا۔ ان کا یہ انداز آسٹریلیا کے فاسٹ بولر اسکاٹ بولینڈ کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے گزشتہ ایشز سیریز میں انگلینڈ کے بلے بازوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا تھا۔ رابنسن نے میچ کے بعد اپنی اس حکمت عملی پر روشنی ڈالی جس سے ان کی گہری کرکٹنگ سوجھ بوجھ کا پتہ چلتا ہے۔

انہوں نے بتایا، “جب نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلے بولنگ کر رہی تھی، تو میں ڈریسنگ روم میں ٹی وی اسکرین پر ان کی بولنگ کا بہت باریک بینی سے جائزہ لے رہا تھا۔ ہم نے غور کیا کہ ان کی روایتی سوئنگ گیندیں پچ سے اتنی تیزی سے ردعمل نہیں دے رہی تھیں جتنا کہ ان کی ووبل (wobble) سیم والی گیندیں کر رہی تھیں۔ ہمارے بلے بازوں نے بھی واپس آکر بتایا کہ گیند پچ پر پڑنے کے بعد تیزی سے حرکت کر رہی ہے، چاہے بولر کی رفتار عام سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے میں نے میدان میں اترتے ہی فیصلہ کیا کہ میں سوئنگ کے بجائے زیادہ تر ووبل سیم بولنگ کروں گا کیونکہ اس سے بلے بازوں کو کھیلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔”

انہوں نے مزید بتایا، “میں نے اور گس اٹکنسن نے نیوزی لینڈ کے اوپنر ٹام لیتھم کو آؤٹ کرنے سے پہلے سوئنگ گیند کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی کیونکہ وہ لائن دیکھتے ہی گیند چھوڑ رہے تھے۔ اس کے علاوہ، میرا پورا اسپیل زیادہ تر ووبل سیم پر ہی مبنی تھا۔”

ایشز سیریز میں شرکت نہ کرنے کا اہم انکشاف

اس شاندار کارکردگی کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ کیا رابنسن گزشتہ ایشز سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم کے لیے وہ گمشدہ کڑی ثابت ہو سکتے تھے جہاں انگلینڈ کو 4-1 سے عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس سوال پر رابنسن نے ایک گہری آہ بھری اور اعتراف کیا کہ وہ اس وقت ذہنی اور جسمانی طور پر اس معرکے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا، “سچ کہوں تو، میں اس وقت کھیلنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا، نہ ہی بطور انسان اور نہ ہی بطور کرکٹر میں اس مقام پر تھا جہاں آج کھڑا ہوں۔ یہ صرف پچھلے چند مہینوں کی بات ہے کہ مجھے کھیل میں دوبارہ خوشی ملنا شروع ہوئی ہے اور میں نے زیادہ توجہ اور محنت کے ساتھ کام کرنا شروع کیا ہے۔”

رابنسن نے بتایا کہ وہ اس دورے کے دوران آسٹریلیا میں موجود تھے جہاں انہوں نے سڈنی یونیورسٹی کے لیے گریڈ کرکٹ کھیلی اور نیو ساؤتھ ویلز کے ایک نیٹ سیشن کے دوران دنیا کے بہترین بلے باز اسٹیو اسمتھ کو بھی بولنگ کروائی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ وہاں کی وکٹیں ان کے بولنگ اسٹائل کے لیے سازگار ہو سکتی تھیں، لیکن وہ ذہنی طور پر بین الاقوامی کرکٹ کے دباؤ کے لیے تیار نہیں تھے اور ان کا ماننا تھا کہ وہ صرف شاندار کارکردگی کے ذریعے ہی دوبارہ ٹیم میں جگہ بنا سکتے گے۔

کپتان بین اسٹوکس اور برینڈن میکولم کا بھرپور تعاون

رابنسن نے اپنی واپسی کا سہرا کپتان بین اسٹوکس اور ہیڈ کوچ برینڈن میکولم کے سر باندھا، جنہوں نے انہیں ہر ممکن مدد اور حوصلہ افزائی فراہم کی۔ اسٹوکس نے رابنسن کی ایک منفرد درخواست بھی قبول کی، جس کے تحت انہوں نے اپنی پرانی شرٹ نمبر 57 کو چھوڑ کر نمبر 1 کی شرٹ پہنی۔ یہ نمبر عام طور پر کپتان کے لیے مخصوص ہوتا ہے، لیکن اب اسے انگلینڈ کے اہم ترین بولر کے اعزاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رابنسن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “امید ہے کہ ایسا ہی ہو۔ یہ میرا لکی نمبر ہے کیونکہ میری تاریخ پیدائش یکم دسمبر ہے۔ مجھے پہلے معلوم نہیں تھا کہ یہ کپتان کا نمبر ہے لیکن اسٹوکس کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا، جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔”

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اسٹوکس نے انہیں پچھلے ہفتے ایک پیغام بھیجا تھا جس میں لکھا تھا، “تمہاری ٹیم میں واپسی پر بہت خوشی ہے، لیکن یہ یاد رکھنا کہ اصل سخت محنت ابھی باقی ہے۔” رابنسن نے کہا کہ یہ الفاظ ہر وقت ان کے ذہن میں رہتے ہیں اور انہیں مزید محنت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مستقبل کے عزم اور فٹنس پر توجہ

فاسٹ بولر نے تسلیم کیا کہ ان کی بولنگ کی مہارت پر کبھی کسی کو شک نہیں تھا، بلکہ اصل چیلنج ان کی فٹنس اور دیگر غیر نصابی معاملات تھے۔ انہوں نے کہا، “جب مجھے راب کی (Keysy) کا فون آیا اور برینڈن میکولم کا پیغام ملا، تو میں سمجھ گیا کہ مجھے اب بہت سخت محنت کرنی ہے اور میں نے پچھلے چند مہینوں میں یہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں ابھی مکمل طور پر تیار کھلاڑی نہیں ہوں اور مجھے اپنی فٹنس پر مزید کام کرنا ہے، لیکن لارڈز جیسے سیشنز میری تمام تر سخت محنت کو یادگار اور وصول کر دیتے ہیں۔”