Get Cricket New
News

Solanki ‘would have liked to have gone one step further’ but still ‘immensely proud’ of GT

Zain Ali · · 1 min read

آئی پی ایل 2026 کے فائنل کے بعد وکرم سولنکی کا تجزیہ

گجرات ٹائٹنز (GT) کے ڈائریکٹر آف کرکٹ وکرم سولنکی نے رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے ہاتھوں اتوار کو کھیلے گئے آئی پی ایل 2026 کے فائنل میں شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی شاندار مہم کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ٹیم ٹرافی جیتنے کے قریب تھی، لیکن وہ مجموعی طور پر اپنی ٹیم کی کوششوں پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔

فتح کا اعتراف اور ٹیم کی کارکردگی

وکرم سولنکی نے اپنی گفتگو کا آغاز آر سی بی کو مبارکباد دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آر سی بی نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران غیر معمولی کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بنگلورو کی ٹیم نے لیگ مرحلے میں بھی ٹاپ پوزیشن حاصل کی تھی اور فائنل میں بھی گجرات کو شکست دے کر اپنی برتری ثابت کی۔ سولنکی کا ماننا ہے کہ اگرچہ ہر ٹیم جیتنا چاہتی ہے، لیکن گجرات ٹائٹنز نے جس سطح کا کھیل پیش کیا وہ قابل ستائش ہے۔

تھکاوٹ اور شیڈول کے چیلنجز

گجرات ٹائٹنز کے لیے فائنل تک کا سفر کافی دشوار گزار رہا۔ دھرم شالہ میں کوالیفائر 1 میں آر سی بی سے شکست کے بعد، ٹیم کو تین دنوں کے اندر تین میچ کھیلنے پڑے۔ فائنل سے قبل ٹیم احمد آباد ہفتہ کی رات دیر گئے پہنچی اور انہیں میدان میں اترنے کے لیے 20 گھنٹے سے بھی کم وقت ملا۔ تاہم، سولنکی نے اسے ہار کا بہانہ بنانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ شیڈول یا تھکاوٹ کو اپنی شکست کا جواز نہیں بنائیں گے، کیونکہ آر سی بی نے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا اور جیت کا حقدار ثابت ہوا۔

ٹاپ آرڈر پر انحصار اور حکمت عملی

جب سولنکی سے شبمن گل، بی سائی سدرشن اور جوس بٹلر پر ٹیم کے زیادہ انحصار کے بارے میں پوچھا گیا، تو وہ قدرے ناراض نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم فائنل تک پہنچی ہے اور یہ کسی ایک یا دو کھلاڑیوں کی نہیں بلکہ پوری ٹیم کی کاوش ہے۔ ٹورنامنٹ میں گل اور سدرشن کی شاندار فارم اور ان کے درمیان سنچری پارٹنرشپس اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹیم نے ایک متوازن مہم چلائی ہے۔

فائنل میں نیشانت سندھو کو تیسرے نمبر پر بھیجنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہیڈ کوچ آشیش نہرا کا ایک لمحاتی فیصلہ تھا جس کا مقصد صورتحال کے مطابق ٹیم کو مستحکم کرنا تھا۔ اگرچہ یہ تجربہ کامیاب نہ ہو سکا، لیکن ٹیم انتظامیہ اپنے فیصلوں پر قائم ہے۔

پچ کا غلط اندازہ اور وراٹ کوہلی کی اننگز

وکرم سولنکی نے تسلیم کیا کہ ٹیم نے پچ کو پڑھنے میں تھوڑی غلطی کی۔ ان کے خیال میں یہ 200 سے زائد رنز والی پچ نہیں تھی اور 180 کے لگ بھگ کا ہدف ایک چیلنجنگ اسکور ہو سکتا تھا۔ آر سی بی نے پچ کے حالات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وراٹ کوہلی کی اننگز کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک کرکٹ شائقین کے طور پر وراٹ جیسے کھلاڑی کو دیکھنا ایک اعزاز ہے، حالانکہ ایک حریف ٹیم کے ڈائریکٹر کے طور پر ان کے لیے یہ لمحہ جشن منانے کا نہیں تھا۔

آخر میں، سولنکی نے کہا کہ گجرات ٹائٹنز کے لیے یہ سیزن سیکھنے کا عمل رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند رکھنے کا عہد کیا اور مستقبل کے مقابلوں کے لیے پر امید ظاہر کی۔ گجرات کا سفر اس سیزن میں ختم ہو گیا، لیکن ان کی کارکردگی نے آئی پی ایل میں ایک بار پھر اپنی پہچان بنائی ہے۔

Avatar photo
Zain Ali

Zain Ali tracks cricket schedules, tournament fixtures, venue details, and upcoming IPL match timelines.