Get Cricket New
News

‘Disappointing’ – Sangakkara on Sam Curran turning out for Surrey with IPL still – سم کران کی واپسی پر کمارا سنگاکارا کا مایوسی کا اظہار: آئی پی ایل تنازعہ

Neha Kapoor · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: سم کران کا معاملہ اور سنگاکارا کی ناراضگی

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے 2026 سیزن کے اختتام کے بعد، راجستھان رائلز (RR) کے ہیڈ کوچ کمارا سنگاکارا نے ٹیم کے آل راؤنڈر سم کران کے حوالے سے ایک اہم اور تلخ بیان دیا ہے۔ سنگاکارا نے اس بات پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ کران، جنہوں نے آئی پی ایل سے یہ کہہ کر دستبرداری اختیار کی تھی کہ وہ ‘سیزن ختم کرنے والی انجری’ کا شکار ہیں، آئی پی ایل کے دوران ہی انگلش کاؤنٹی ٹیم سرے کی جانب سے وائٹلٹی بلاسٹ میں ایکشن میں نظر آئے۔

سنگاکارا کا مؤقف

راجستھان رائلز کے کوالیفائر 2 سے باہر ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سنگاکارا نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ سم کران کو ایسی انجری ہے جس کی وجہ سے وہ سیزن کا مزید حصہ نہیں بن سکتے، تاہم ان کی سرے کے لیے واپسی دیکھنا کافی مایوس کن تھا۔ سنگاکارا نے مزید کہا کہ ہم انہیں اپنی ٹیم کے ساتھ دیکھنا چاہتے تھے اور ان کی موجودگی راجستھان رائلز کے لیے بہت اہم ثابت ہو سکتی تھی۔

سم کران کا مؤقف اور حقائق

سم کران نے مارچ کے وسط میں آئی پی ایل سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گروئن کی انجری کا شکار ہیں جو ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران سے انہیں پریشان کر رہی تھی۔ کران کے مطابق، اس انجری کی وجہ سے انہیں مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ تاہم، 22 مئی کو وہ سرے کے لیے وائٹلٹی بلاسٹ میں کھیلتے ہوئے نظر آئے، جہاں انہوں نے تین اننگز میں 141 رنز بنائے، اگرچہ انہوں نے اس دوران بولنگ نہیں کی۔

آئی پی ایل پالیسی اور کھلاڑیوں کی ذمہ داری

اس تنازعہ نے ایک بار پھر کھلاڑیوں کی آئی پی ایل کے معاہدوں کے تئیں ذمہ داریوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔ سنگاکارا نے بی سی سی آئی (BCCI) کی سخت پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معاہدوں کی پاسداری ہر صورت میں ہونی چاہیے۔

  • بی سی سی آئی نے ستمبر 2024 میں کھلاڑیوں کے لیے دو سالہ پابندی کا اعلان کیا تھا جو نیلامی میں منتخب ہونے کے بعد دستبردار ہو جاتے ہیں۔
  • سنگاکارا کا ماننا ہے کہ انجریز فطری ہیں، لیکن ان کی تصدیق اور معاہدے کی پاسداری ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔
  • کھیل کے معیار اور ٹیم کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کھلاڑیوں کا ٹیم کے ساتھ رہنا ضروری ہوتا ہے۔

ٹیم کے ساتھ یکجہتی کی اہمیت

سنگاکارا نے اپنے بیان میں راجستھان رائلز کے ان دیگر غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعریف کی جنہوں نے ٹیم میں زیادہ مواقع نہ ملنے کے باوجود سخت محنت کی اور ڈریسنگ روم کا ماحول مثبت رکھا۔ انہوں نے ایڈم ملنے، شمرون ہیٹمائر، اور نوجوان کھلاڑیوں کا خاص طور پر ذکر کیا جنہوں نے ٹیم کے لیے ‘مشکل کام’ انجام دیے۔ انہوں نے زور دیا کہ کھلاڑی کا ٹیم کے ساتھ ہونا صرف میچ کھیلنے تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ ٹیم کے مقصد کے لیے کام کرنے کا نام ہے۔

نتیجہ

سم کران کا یہ معاملہ جہاں کھلاڑیوں کی فٹنس اور لیگز کے درمیان ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے، وہیں یہ آئی پی ایل کی انتظامیہ کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ وہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید سخت قواعد و ضوابط لاگو کرے۔ سنگاکارا کا یہ بیان کرکٹ حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اس واقعے کے بعد کھلاڑیوں کے معاہدوں میں مزید سختی لائی جاتی ہے یا نہیں۔