Get Cricket New
Cricket News

ویبھو سوریہ ونشی: کرس گیل کا 14 سالہ چھکوں کا ریکارڈ توڑنے کے قریب – عرفان پٹھان کی حمایت

Neha Kapoor · · 1 min read

آئی پی ایل 2026 کا سیزن کرکٹ کے شائقین کے لیے کئی حوالوں سے یادگار ثابت ہو رہا ہے، لیکن جو چیز سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، وہ ہے راجستھان رائلز کے نوجوان بیٹنگ سنسنی ویبھو سوریہ ونشی کی غیر معمولی کارکردگی۔ اس بائیں ہاتھ کے بلے باز نے اپنی دھواں دھار بیٹنگ سے نہ صرف اپنی ٹیم کو فتوحات دلائی ہیں بلکہ کرس گیل کے 14 سال پرانے ایک سیزن میں سب سے زیادہ چھکوں کے ریکارڈ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ویبھو سوریہ ونشی: کرس گیل کے ریکارڈ کے دہانے پر

گزشتہ میچ میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف راجستھان رائلز کی شاندار فتح میں ویبھو سوریہ ونشی کا کردار کلیدی تھا۔ انہوں نے صرف 38 گیندوں پر 93 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جس میں دس چھکے اور سات چوکے شامل تھے۔ اس اننگز نے راجستھان رائلز کو تین میچوں کی شکست کے سلسلے کو توڑنے میں مدد دی اور انہیں پوائنٹس ٹیبل پر ایک مضبوط پوزیشن پر پہنچا دیا۔ اس سیزن میں اب تک ویبھو 53 چھکے لگا چکے ہیں اور انہیں کرس گیل کے 2012 کے سیزن میں رائل چیلنجرز بنگلور کے لیے لگائے گئے 59 چھکوں کے ریکارڈ کو توڑنے کے لیے صرف سات مزید چھکوں کی ضرورت ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جب گیل نے یہ تاریخی ریکارڈ قائم کیا تھا، تو ویبھو کی عمر محض ایک سال تھی۔ یہ نوجوان بلے باز صرف 15 سال کی عمر میں ایک ایسا کارنامہ انجام دینے کے قریب ہے جو کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کرے گا۔

عرفان پٹھان کی جانب سے بھرپور حمایت

بھارت کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے منگل کو راجستھان رائلز اور لکھنؤ سپر جائنٹس کے میچ کے بعد نوجوان کھلاڑی کی بھرپور حمایت کی ہے۔ جیو اسٹار کے ساتھ اپنی گفتگو میں پٹھان نے کہا، “وہ (ویبھو) گیل کے 59 چھکوں کے ریکارڈ کو توڑنے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ پہلے ہی اس سیزن میں 53 چھکے لگا چکے ہیں۔ یہ نوجوان بلے باز وہی خوف پیدا کر رہا ہے جو کرس گیل کو باؤلنگ کرتے وقت ہمیں محسوس ہوتا تھا، اور یہ (ایک سیزن میں سب سے زیادہ چھکوں کا) ریکارڈ اب ایک بڑے خطرے میں ہے۔” پٹھان کے یہ الفاظ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ویبھو کی بیٹنگ میں کتنی صلاحیت اور دھماکہ خیزی ہے۔ ان کے مطابق، ویبھو کی بیٹنگ میں وہ طاقت اور اعتماد ہے جو کسی بھی باؤلر کے لیے خوف کا باعث بن سکتا ہے۔

راجستھان رائلز کی فتح: شکست کا سلسلہ ختم

جے پور میں راجستھان رائلز کی فتح ان کے لیے انتہائی اہم تھی کیونکہ وہ لگاتار تین شکستوں کے بعد میدان میں اترے تھے۔ اس میچ میں لکھنؤ سپر جائنٹس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک بڑا ہدف 220 رنز کا اسکور بورڈ پر سجایا۔ لکھنؤ کے لیے اوپنر مچل مارش نے 57 گیندوں پر 96 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جو کہ ان کی بہترین کارکردگی میں سے ایک تھی۔ جوش انگلس نے بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 29 گیندوں پر 60 رنز بنائے، اور اس جوڑی نے اوپننگ وکٹ کے لیے صرف 50 گیندوں پر 109 رنز کا اضافہ کیا۔ ان کی شاندار شراکت نے لکھنؤ کو ایک مضبوط پوزیشن پر پہنچا دیا تھا۔

راجستھان کی جوابی کارروائی اور دھروو جوریل کی پختگی

جواب میں، راجستھان رائلز نے بھی ایک شاندار آغاز کیا۔ ویبھو سوریہ ونشی اور کپتان یشسوی جیسوال نے پہلی وکٹ کے لیے 39 گیندوں پر 75 رنز کی تیز رفتار شراکت قائم کی۔ جیسوال نے 23 گیندوں پر 43 رنز بنائے، جس میں آٹھ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ لیکن اصل ہیرو ویبھو تھے جن کی دھواں دھار اننگز نے ٹیم کو فتح کی راہ پر گامزن کیا۔ دھروو جوریل نے بھی غیر معمولی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 38 گیندوں پر ناقابل شکست 53 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو جے پور میں پہلی فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی اننگز نے ٹیم کو دباؤ میں بھی فتح سے ہمکنار کیا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ ایک مشکل صورتحال میں بھی بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ویبھو سوریہ ونشی: ‘پلیئر آف دی میچ’ اور ان کی حکمت عملی

صرف 15 سال کے ویبھو سوریہ ونشی کو ان کی میچ وننگ 93 رنز کی اننگز پر ‘پلیئر آف دی میچ’ کا ایوارڈ دیا گیا۔ میچ کے اختتام پر بات کرتے ہوئے، بہار سے تعلق رکھنے والے اس بلے باز نے اپنی حکمت عملی کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا، “جب میں پہلی اننگز میں باہر بیٹھا ہوا تھا تو وکٹ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ میں نے شروع سے ہی اپنی اننگز کو تیز کرنے کی کوشش نہیں کی اور کچھ وقت لینا چاہا۔” انہوں نے مزید کہا، “میں اننگز کو بنانا چاہتا تھا کیونکہ اس سے دوسرے بلے بازوں کو بھی مدد ملے گی۔ میں تعاقب کے دوران کسی بھی وقت چوکے اور چھکے لگا سکتا تھا، اس لیے میں اچھی بیٹنگ کرنا چاہتا تھا اور کھیل کو آخر تک لے جانا چاہتا تھا۔” ان کے یہ الفاظ ان کی کرکٹ سمجھ بوجھ اور پختگی کو ظاہر کرتے ہیں جو ان کی کم عمری کے باوجود قابل تعریف ہے۔ یہ حکمت عملی انہیں نہ صرف ایک کامیاب بلے باز بناتی ہے بلکہ ٹیم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بھی ثابت کرتی ہے۔

کرس گیل کا ریکارڈ: ایک دہائی کی حکمرانی

کرس گیل کا ایک سیزن میں 59 چھکوں کا ریکارڈ 2012 میں قائم ہوا تھا اور یہ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کرکٹ کی دنیا میں ایک معیار بنا رہا۔ “یونیورس باس” کے نام سے مشہور گیل نے اپنی طاقت اور بے خوف انداز سے دنیا بھر کے باؤلرز کو پریشان کیا۔ ان کا یہ ریکارڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک سیزن میں مسلسل چھکے لگانا کتنا مشکل کام ہے، خاص طور پر آئی پی ایل جیسی مسابقتی لیگ میں۔ اب جب ایک 15 سالہ نوجوان اس ریکارڈ کو توڑنے کے قریب ہے تو یہ کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک روشن اشارہ ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ کرکٹ کی دنیا میں ہر نئے سیزن کے ساتھ نئے ستارے ابھرتے ہیں جو پرانے ریکارڈز کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آئی پی ایل کا مستقبل اور ویبھو کا کردار

ویبھو سوریہ ونشی کی حالیہ کارکردگی نہ صرف راجستھان رائلز کے لیے بلکہ پورے آئی پی ایل کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے۔ ان کی کم عمری میں اتنی بڑی لیگ میں اس طرح کی کارکردگی انہیں مستقبل کا ایک بڑا ستارہ بناتی ہے۔ اگر وہ کرس گیل کا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ ان کے کیریئر کا ایک اہم سنگ میل ہو گا اور انہیں عالمی کرکٹ میں ایک نئی پہچان ملے گی۔ کرکٹ کے شائقین اور ماہرین سب کی نگاہیں اب ویبھو پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ ان کی یہ اننگز اور ان کا ریکارڈ کی طرف سفر آئی پی ایل 2026 کے سب سے دلچسپ لمحات میں سے ایک بن چکا ہے۔ ویبھو سوریہ ونشی جیسے نوجوان کھلاڑیوں کی آمد آئی پی ایل کی مقبولیت اور معیار کو مزید بلند کرتی ہے اور کھیل کے شائقین کو ہر میچ میں کچھ نیا دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔