سنجر سامسن کو اے ف کےخلاف ون ڈے سکواڈ میں کیوں شامل کیا جا رہا ہے؟ – جاوتام گمبھیر کا فیصلہ
سنجر سامسن کو افغانستان کے خلاف ون ڈے سکواڈ میں ترجیح، جاوتام گمبھیر کا واضح رجحان
بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) ابھی تک افغانستان کے خلاف ایک ٹیسٹ اور تین ون ڈے میچز کے لیے سکواڈ کا اعلان نہیں کیا ہے، جو آئی پی ایل 2026 کے بعد شیڈول ہیں۔ تاہم، سکواڈ کے حتمی انتخاب سے پہلے ہی بحث چھڑ چکی ہے، خاص طور پر ون ڈے فارمیٹ میں تبدیلیوں کے حولے سے۔
وکٹ کیپر کی دوڑ: سامسن، کشن یا پانت؟
سب سے زیادہ توجہ وکٹ کیپر کی دوڑ پر مرکوز ہے، جہاں رشبھ پانت، اشو کشن اور سنجر سامسن کے نام سامنے ہیں۔ رشبھ پانت کی ون ڈے فارمیٹ میں کارکردگی مایوس کن رہی ہے، جبکہ ان کی آئی پی ایل 2026 میں کارکردگی بھی قائل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں، بی سی سی آئی کے حکام انہیں سکواڈ سے باہر رکھنے پر غور کر رہے ہیں۔
لیکن اصل مقابلہ اشو کشن اور سنجر سامسن کے درمیان ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، جو جاوتام گمبھیر کی کوچنگ قیادت میں ممکن ہوئی۔
سامسن کو مل سکتا ہے ترجیح
حالیہ رپورٹس کے مطابق، چنئی سپر کنگز کے کپتان سنجر سامسن کو افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے سکواڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ان کی 2023 کے بعد ون ڈے ٹیم میں واپسی کا موقع ہوگا، جب انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف پارل میں سنچری اسکور کی تھی۔
اگرچہ سامسن ٹی 20 ورلڈ کپ میں اوپنر کے طور پر کھیلے، لیکن ون ڈے فارمیٹ میں وہ درمیانی ترتیب (مڈل آرڈر) کے بیٹسمین ہیں۔ دوسری طرف، اشو کشن کو اوپنر کے طور پر بیک اپ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور وہ نیچے کے آرڈر میں بیٹنگ کر سکتے ہیں۔
اعداد و شمار: کون بہتر؟
ون ڈے فارمیٹ میں اشو کشن کو زیادہ تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے 2023 کے ورلڈ کپ میں بھی حصہ لیا، اور ان کی اوسط سامسن سے بہتر ہے۔ ان کے نام ایک 200 رنز کی اننگز بھی درج ہے۔
لیکن آئی پی ایل 2026 میں سامسن کی کارکردگی کچھ بہتر رہی ہے۔ 12 میچوں میں انہوں نے 450 رنز بنائے، جو اشو کشن سے 30 رنز زیادہ ہیں۔ تاہم، کشن کا اسٹرائیک ریٹ (185.84) سامسن (164.23) سے بہتر ہے۔ سامسن کے نام اس سیزن میں دو سنچریاں درج ہیں، جبکہ کشن کے نام اس حوالے سے صفر ہے۔
تیز گیند بازی میں بحران
جاوتام گمبھیر کی ٹیم مینجمنٹ کو تیز گیند بازوں کی کمی کا سامنا ہے۔ جسپریت بمراہ کو آرام دیا جائے گا، جبکہ ہرشت رانا زخمی ہیں۔ محمد سراج واحد مکمل فٹ تیز گیند باز ہیں، اور آرش دیپ سنگھ بھی معمولی چوٹ کے باعث دباؤ میں ہیں۔
اس صورتحال میں، نوجوان گیند بازوں جیسے پرنس یادو، کرتیک تیاگی اور پرسدھ کرشنا کو موقع ملنے کے امکانات ہیں، خاص طور پر ان کی آئی پی ایل 2026 میں کارکردگی کی بنیاد پر۔
کیا جاوتام گمبھیر کی قیادت میں نئی تشکیل والی ٹیم افغانستان کے خلاف حتمی ٹیسٹ پاس کر پائے گی؟ فی الحال، سنجر سامسن کا سکواڈ میں انتخاب ایک اہم پیغام ہوگا کہ ٹیم مینجمنٹ تجربہ کے ساتھ ساتھ حالیہ فارم کو بھی ترجیح دے رہی ہے۔
