Sangakkara calls out Sam Curran for skipping IPL 2026; backs BCCI’s strong measu
کمار سنگاکارا کا سیم کرن کے رویے پر سخت ردعمل
راجستھان رائلز کے ہیڈ کوچ اور سری لنکا کے سابق لیجنڈری بلے باز کمار سنگاکارا نے آئی پی ایل کے دوران کھلاڑیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ کے روز کھیلے گئے دوسرے کوالیفائر میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنگاکارا نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس پریس کانفرنس کا ایک بڑا حصہ انگلش آل راؤنڈر سیم کرن کی غیر حاضری کے گرد گھومتا رہا۔ سنگاکارا کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو اپنے معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے، جبکہ انہوں نے بی سی سی آئی کی جانب سے کھلاڑیوں کے خلاف کیے جانے والے سخت ترین اقدامات کی بھی مکمل حمایت کی تاکہ لیگ کے معیار اور نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔
کوالیفائر میچ کا پس منظر اور ٹیم کی صورتحال
دوسرے کوالیفائر میچ میں گجرات ٹائٹنز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات وکٹوں سے فتح حاصل کی اور فائنل میں جگہ بنا لی، جہاں اتوار کو ان کا مقابلہ ان کے ہوم گراؤنڈ پر رائل چیلنجرز بنگلور سے ہونا طے پایا ہے۔ میچ کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں 48 سالہ سنگاکارا نے راجستھان رائلز کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ٹیم کی حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی دستیابی کے اہم مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے خاص طور پر انگلینڈ کے اسٹار آل راؤنڈر سیم کرن کے لیگ سے دستبردار ہونے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا اور فرنچائز کو درپیش مشکلات کا تذکرہ کیا۔
سیم کرن کی متنازعہ دستبرداری اور راجستھان رائلز کا نقصان
سیم کرن کی راجستھان رائلز میں شمولیت کے حوالے سے سنگاکارا نے بتایا کہ نیلامی سے پہلے ٹیموں کے درمیان ایک اہم ٹریڈ عمل میں آئی تھی۔ اس ٹریڈ کے تحت سیم کرن اور رویندر جڈیجہ کو راجستھان رائلز کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا، جبکہ راجستھان رائلز کے سابق کپتان سنجو سیمسن کو چنئی سپر کنگز کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد رائلز کو سیم کرن سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں، لیکن سیزن کے آغاز سے قبل راجستھان رائلز کی انتظامیہ کو یہ اطلاع دی گئی کہ سیم کرن ایک ایسی انجری کا شکار ہو چکے ہیں جو انہیں پورے سیزن سے باہر کر دے گی۔ اس اطلاع کے بعد فرنچائز کو مجبورا متبادل کھلاڑی تلاش کرنا پڑا۔
انجری کا دعویٰ بمقابلہ ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں شرکت
لیکن کہانی میں موڑ اس وقت آیا جب سیم کرن کو انگلینڈ میں جاری ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ ٹورنامنٹ میں سرے کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ سنگاکارا نے اس بات پر حیرت اور مایوسی کا اظہار کیا کہ جو کھلاڑی آئی پی ایل کے لیے فٹ نہیں تھا، وہ اپنے ملک کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں سرگرمِ عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیم کرن نے سرے کے لیے بطور خالص بلے باز تین میچ کھیلے، جن میں انہوں نے 70.5 کی شاندار اوسط اور 71 ناٹ آؤٹ کے بہترین اسکور کے ساتھ مجموعی طور پر 141 رنز بنائے۔ سنگاکارا کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی اتنی شاندار بلے بازی کر رہا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کھیلنے کے قابل تھا، اور ان کا آئی پی ایل چھوڑنا ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ واضح رہے کہ سیم کرن کا آخری بین الاقوامی میچ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا سیمی فائنل تھا جو بھارت کے خلاف کھیلا گیا تھا، جہاں انہوں نے بلے سے 18 رنز بنائے تھے اور گیند بازی میں کوئی وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔
داسن شناکا کا متبادل کے طور پر بروقت انتخاب
سنگاکارا نے مزید کہا کہ سیم کرن جیسے اہم آل راؤنڈر کی عدم موجودگی ٹیم کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی۔ تاہم، انہوں نے انتظامیہ کے فیصلے کی تعریف کی کہ انہوں نے بروقت داسن شناکا کو متبادل کے طور پر منتخب کیا۔ چونکہ فرنچائز کو سیم کرن کے نہ کھیلنے کی اطلاع وقت پر مل گئی تھی، اس لیے داسن شناکا کو شامل کرنے کا فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا اور ٹیم کو متبادل کے لیے زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سنگاکارا نے واضح کیا کہ شناکا نے ٹیم کی ضرورت کے وقت بہترین کردار ادا کیا لیکن سیم کرن کا تجربہ ٹیم کے لیے مزید مددگار ثابت ہو سکتا تھا۔
بی سی سی آئی کے سخت قوانین اور سنگاکارا کی غیر مشروط حمایت
کمار سنگاکارا نے پریس کانفرنس کے دوران کھلاڑیوں کے اس طرح اچانک نام واپس لینے کے رویے پر قابو پانے کے لیے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا کے سخت قوانین کی بھرپور حمایت کی۔ واضح رہے کہ بی سی سی آئی نے آئی پی ایل نیلامی میں منتخب ہونے کے بعد بغیر کسی معقول وجہ کے دستبردار ہونے والے کھلاڑیوں پر دو سال کی سخت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل بی سی سی آئی نے ہیری بروک اور بین ڈکٹ جیسے کھلاڑیوں پر اپنے معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے پابندیاں عائد کی تھیں۔ سنگاکارا نے بی سی سی آئی کی اس پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی درست اور سخت اقدام ہے، اور اسے اسی طرح جاری رہنا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے کھلاڑیوں میں اپنے معاہدوں کے تئیں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا، جس کا فائدہ آئی پی ایل کی تمام فرنچائزز کو ہوگا اور لیگ کا وقار برقرار رہے گا۔
کھلاڑیوں کی دستبرداری کے فرنچائزز پر اثرات
دنیا بھر کی کرکٹ لیگز میں کھلاڑیوں کی اچانک دستبرداری ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ جب ایک فرنچائز مہینوں کی منصوبہ بندی، ڈیٹا کی جانچ پڑتال اور نیلامی کی حکمت عملی کے بعد کسی کھلاڑی کو منتخب کرتی ہے، تو اس کھلاڑی کی اچانک غیر موجودگی پوری ٹیم کا توازن بگاڑ دیتی ہے۔ راجستھان رائلز نے سیم کرن اور رویندر جڈیجہ کو حاصل کرنے کے لیے اپنے کپتان سنجو سیمسن کی قربانی دی تھی۔ سنجو سیمسن جیسے مایہ ناز کھلاڑی کو الوداع کہنا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا، لیکن رائلز کی انتظامیہ کو امید تھی کہ سیم کرن کا آل راؤنڈر کردار ٹیم کو ایک نیا توازن فراہم کرے گا۔ جب سیم کرن نے انجری کا بہانہ بنا کر دستبرداری اختیار کی اور پھر چند ہی دنوں بعد انگلینڈ کے مقامی ٹورنامنٹ میں کھیلتے ہوئے نظر آئے، تو اس سے نہ صرف فرنچائز بلکہ کرکٹ کے شائقین کو بھی شدید مایوسی ہوئی۔ سنگاکارا کا کہنا ہے کہ اس طرح کے رویے کرکٹ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور بورڈز کو اس سلسلے میں سخت ترین موقف اختیار کرنا چاہیے۔
