Rohit Sharma’s phone call costs Yashasvi Jaiswal ODI spot; Gautam Gambhir remove – روہت شرما کی واپسی اور 2027 ورلڈ کپ: ٹیم انڈیا کے مستقبل پر بڑے سوالات
بھارتی کرکٹ کا بدلتا منظرنامہ: روہت شرما بمقابلہ مستقبل کے منصوبے
بھارتی کرکٹ ٹیم میں تبدیلیوں کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، افغانستان کے خلاف آئندہ تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے لیے روہت شرما کی ٹیم میں واپسی نے کرکٹ کے حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ سیریز 13 جون 2026 سے دھرم شالہ میں شروع ہو رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روہت کی شمولیت مبینہ طور پر یشسوی جیسوال کی قیمت پر ممکن ہوئی ہے، جنہیں پہلے اس اسکواڈ کا حصہ سمجھا جا رہا تھا۔
یشسوی جیسوال اور سلیکشن کا معمہ
کریٹ بلاگر کی ایک رپورٹ کے مطابق، یشسوی جیسوال کا نام انڈیا اے اسکواڈ میں شامل نہ کرنا اس بات کا اشارہ تھا کہ انہیں سینئر سیٹ اپ میں رکھا جائے گا۔ تاہم، 19 مئی کو جب سلیکٹرز نے افغانستان سیریز کے لیے حتمی اسکواڈ کا اعلان کیا، تو جیسوال کا نام غائب تھا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روہت شرما نے خود بی سی سی آئی حکام سے رابطہ کر کے اپنی دستیابی ظاہر کی۔
گوتم گمبھیر کا 2027 ورلڈ کپ کا وژن
ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کے بارے میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ 2027 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے ایک طویل مدتی پلان پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں روہت شرما کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اگرچہ روہت نے چیمپئنز ٹرافی 2025 میں ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی، لیکن بی سی سی آئی اب قیادت کی منتقلی کا عمل شروع کر چکا ہے، جس کے تحت شبمن گل کو ون ڈے فارمیٹ کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
فٹنس اور کارکردگی کے چیلنجز
روہت شرما کے لیے یہ وقت مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ آئی پی ایل 2026 کے دوران ہیمسٹرنگ انجری اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی (NCA) میں فٹنس اسیسمنٹ مکمل نہ کرنے کے باوجود ان کی واپسی نے سلیکٹرز کے سامنے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف گزشتہ ون ڈے سیریز میں روہت کی کارکردگی بھی توقعات کے مطابق نہیں رہی تھی، جہاں انہوں نے تین اننگز میں صرف 20.33 کی اوسط سے 61 رنز بنائے تھے۔
کیا روہت ون ڈے کرکٹ کو الوداع کہہ دیں گے؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ روہت شرما کے لیے 2027 ورلڈ کپ تک اپنی جگہ برقرار رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اوپننگ سلاٹ کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس مقابلے کو مزید سخت بنا رہی ہے۔ تاہم، روہت شرما بھی آسانی سے ہار ماننے والے کھلاڑی نہیں ہیں۔ وہ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ سطح پر ٹیم کے لیے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
ایک شاندار کیریئر کا تسلسل یا اختتام؟
روہت شرما کا ون ڈے کیریئر بلاشبہ لیجنڈری رہا ہے۔ 282 میچوں میں 48.84 کی اوسط سے 11,577 رنز بنانا، جن میں 33 سنچریاں اور 61 نصف سنچریاں شامل ہیں، ان کی عظمت کا ثبوت ہے۔ سری لنکا کے خلاف ان کی ناقابل یقین 264 رنز کی اننگز آج بھی تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھی ہوئی ہے۔
خلاصہ یہ کہ بی سی سی آئی اور کوچنگ اسٹاف کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ وہ جذبات سے بالاتر ہو کر مستقبل کے لیے سخت فیصلے کریں۔ کیا روہت شرما خود کو دوبارہ ثابت کر پائیں گے یا پھر بھارتی کرکٹ کو اب ایک نئی قیادت اور نئے چہروں کی طرف مکمل طور پر منتقل ہو جانا چاہیے؟ یہ سوال آنے والے وقت میں ہی واضح ہو سکے گا۔ فی الحال، شائقین کی نظریں افغانستان کے خلاف سیریز پر جمی ہیں کہ آیا یہ تبدیلی ٹیم کے لیے سود مند ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔
