Get Cricket New
Bangladesh Cricket

Rohit Sharma edges past Rahul Dravid in elite ODI list – روہت شرما ایلیٹ ون ڈے لسٹ میں راہول ڈریوڈ سے آگے نکل گئے

Neha Kapoor · · 1 min read

چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں افغانستان کے خلاف تیسرے ون ڈے میں روہت شرما نے ایک پرسکون اور بروقت اننگز کھیلی، جس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ ہندوستانی ون ڈے سیٹ اپ کے لیے ایک اہم کھلاڑی کیوں ہیں۔ 219 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے، ہندوستان کو ایک مستحکم آغاز کی ضرورت تھی، اور روہت نے 47 گیندوں پر اپنی رواں نصف سنچری کے ساتھ بالکل ایسا ہی کیا۔

روہت شرما کی تاریخی اننگز اور نیا سنگ میل

یہ اننگز روہت شرما کے لیے ایک اہم سنگ میل بھی لے کر آئی۔ انہوں نے راہول ڈریوڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ون ڈے کرکٹ میں ہندوستان کے لیے 50 یا اس سے زیادہ اسکور کی سب سے زیادہ تعداد کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ پہلے دونوں کھلاڑی 94 ایسے اسکور کے ساتھ برابر تھے، لیکن اب روہت 95 اسکور کے ساتھ آگے نکل گئے ہیں۔ اس ایلیٹ فہرست میں صرف سچن تیندولکر (145) اور وراٹ کوہلی (131) ہی ان سے آگے ہیں۔ یہ کئی سالوں سے روہت کی مستقل مزاجی کی ایک اور یاد دہانی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیشہ سب سے زیادہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے نہ ہوں، لیکن انہوں نے خاموشی سے ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ قابل اعتماد ریکارڈز میں سے ایک بنایا ہے۔

یہ ریکارڈ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ روہت شرما کی طویل المدتی کارکردگی اور دباؤ میں بھی بہترین کھیل پیش کرنے کی صلاحیت کا مظہر ہے۔ راہول ڈریوڈ خود ایک لیجنڈری کھلاڑی اور ‘دی وال’ کے نام سے مشہور ہیں، جنہوں نے ہندوستانی کرکٹ کو کئی سالوں تک اپنی قابل اعتماد بیٹنگ اور کپتانی سے سہارا دیا۔ انہیں پیچھے چھوڑنا روہت کے مقام کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

اوپنر کے طور پر روہت کی غیر معمولی کارکردگی

روہت نے بین الاقوامی کرکٹ میں ہندوستان کے سرکردہ اوپنر کے طور پر اپنی پوزیشن کو بھی مضبوط کیا۔ اپنی حالیہ اننگز کے ساتھ، وہ ویریندر سہواگ کو پیچھے چھوڑ کر بین الاقوامی فارمیٹس میں اوپنر کے طور پر ہندوستان کے لیے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔ اب ان کے نام 16,137 بین الاقوامی رنز ہیں۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جو ان کی بلے بازی کی استعداد اور اوپننگ بلے باز کے طور پر ان کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔

روہت شرما کا اوپنر کے طور پر سفر ایک تبدیلی کا سفر رہا ہے۔ ابتدائی طور پر مڈل آرڈر بلے باز کے طور پر، انہیں زیادہ کامیابی نہیں ملی تھی، لیکن جب انہیں اوپننگ کی ذمہ داری سونپی گئی، تو انہوں نے کرکٹ کی دنیا کو حیران کر دیا۔ ان کی بڑی اننگز کھیلنے کی صلاحیت، خاص طور پر ون ڈے فارمیٹ میں تین ڈبل سنچریوں کے ساتھ، انہیں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ ان کی جارحانہ لیکن کنٹرولڈ بیٹنگ نے ہندوستان کو اکثر ایک مضبوط آغاز فراہم کیا ہے، جس کی بدولت ٹیم نے بڑے اسکور بنائے یا بڑے ہدف حاصل کیے۔

نوجوانوں کے دباؤ میں ‘ہٹ مین’ کا جواب

ایشان کشن کی اچھی فارم اور یشسوی جیسوال کو مستقبل کے لیے تیار کیے جانے کے ساتھ، قدرتی طور پر ان کی طویل مدتی ون ڈے سیٹ اپ میں جگہ کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے تھے۔ کچھ نے تو یہ بھی قیاس آرائیاں کیں کہ شاید یہ مرحلہ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ تاہم، روہت نے اپنے بلے کو بات کرنے کا موقع دیا۔ انہوں نے سست آغاز کیا لیکن کبھی بھی بے چین نظر نہیں آئے۔ ایک بار جب وہ سیٹ ہو گئے، تو انہوں نے اننگز کو کنٹرول کیا اور یقینی بنایا کہ افغانستان کے اسپنرز دباؤ نہیں بنا سکیں۔

یہ اننگز صرف انفرادی سنگ میل کے بارے میں نہیں تھی بلکہ یہ ٹیم کی جیت میں ان کے کردار کا بھی ثبوت تھا۔ وہ دباؤ میں پرسکون رہنے، ضرورت پڑنے پر قابل اعتماد رہنے، اور اب بھی ہندوستان کے لیے میچ ونر رہنے کی اپنی قدر کی ایک اور یاد دہانی تھی۔ ان کی یہ کارکردگی ان تمام سوالات کا جواب تھی جو ان کی عمر یا فارم کے بارے میں اٹھائے جا رہے تھے۔

یشسوی جیسوال کے ساتھ شاندار شراکت داری

اننگز کا نمایاں لمحہ یشسوی جیسوال کے ساتھ ان کی 170 رنز کی شراکت داری تھی۔ اس نوجوان بلے باز کے ساتھ مل کر، انہوں نے افغانستان سے میچ چھین لیا۔ روہت بالآخر 79 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، لیکن اس وقت تک ہندوستان ہدف کے تعاقب میں مضبوط پوزیشن میں تھا۔ یہ شراکت داری صرف رنز کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ تجربے اور جوانی کے امتزاج کا بہترین نمونہ بھی تھی۔ روہت نے جیسوال کو سیٹ ہونے کا موقع دیا اور پھر دونوں نے مل کر افغان بولرز کو بے بس کر دیا۔ اس شراکت نے ثابت کیا کہ روہت نہ صرف خود رنز بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی اعتماد دے سکتے ہیں۔

یہ میچ اور یہ اننگز ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ روہت شرما ابھی بھی ہندوستان کے ون ڈے اسکواڈ کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ ان کی کپتانی کی صلاحیتوں کے علاوہ، ان کی بیٹنگ کا تجربہ اور بڑے میچوں میں دباؤ کو سنبھالنے کی صلاحیت انہیں قیمتی بناتی ہے۔ ان کے یہ ریکارڈز ان کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں اور ہندوستانی کرکٹ میں ان کے اہم کردار کو مزید تقویت بخشتے ہیں۔ ان کی یہ کارکردگی مستقبل میں بھی ہندوستان کے لیے ان کی اہمیت کو برقرار رکھے گی۔

ان کی یہ پرفارمنس نہ صرف انفرادی ریکارڈز کے لیے اہم ہے بلکہ یہ ٹیم کو ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹس میں استحکام فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ روہت کی قیادت میں ہندوستان نے کئی اہم فتوحات حاصل کی ہیں اور ان کی تجربہ کاری ٹیم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ یہ اننگز ان ناقدین کے لیے بھی ایک پیغام تھا جو ان کی فارم پر سوال اٹھا رہے تھے، کہ ‘ہٹ مین’ اب بھی اپنے عروج پر ہے اور جب بات ون ڈے کرکٹ کی ہو تو وہ ایک ناقابل یقین قوت ہے۔