IPL 2026: MS Dhoni ki fit honay ke bawajood wapsi se inkaar ki wajah samne aa gayi
ایم ایس دھونی اور آئی پی ایل 2026: واپسی کیوں نہیں ہوئی؟
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کے جاری سیزن میں چنئی سپر کنگز (CSK) کے مداحوں کی نظریں صرف ایک ہی شخصیت پر مرکوز رہی ہیں، اور وہ ہیں لیجنڈری وکٹ کیپر بلے باز ایم ایس دھونی۔ پورے سیزن کے دوران شائقین اپنے پسندیدہ ‘تھالا’ کو دوبارہ پیلی جرسی میں دیکھنے کے لیے بے تاب رہے، لیکن اب تک انہیں صرف مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فٹنس کے باوجود ٹیم کا ساتھ کیوں نہ دیا؟
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایم ایس دھونی لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے خلاف 10 مئی کو چنئی اور 15 مئی کو لکھنؤ میں کھیلے گئے میچوں کے لیے مکمل طور پر فٹ تھے۔ اگرچہ چنئی سپر کنگز نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر جیت حاصل کی، لیکن لکھنؤ میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کرکٹ بلاگر کے صحافی اندرانیل باسو کے مطابق، دھونی طبی لحاظ سے میدان میں اترنے کے اہل تھے، لیکن انہوں نے خود کو ٹیم سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا۔
دھونی کے اس فیصلے کے پیچھے ایک ہی بڑی وجہ بتائی جا رہی ہے: ٹیم کا توازن۔ دھونی نہیں چاہتے تھے کہ سیزن کے اس اہم موڑ پر، جب ٹیم ایک خاص کمبی نیشن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، وہ اپنی واپسی سے ٹیم کے سیٹ اپ میں کوئی خلل ڈالیں۔ یہ فیصلہ ان کی ٹیم کے لیے بے لوث وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا چپاک میں آخری بار نظر آئیں گے؟
اب تمام تر توجہ 18 مئی کو سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے خلاف ہونے والے میچ پر مرکوز ہے۔ چونکہ یہ چنئی کا اس سیزن کا آخری ہوم میچ ہے، اس لیے شائقین کی جذباتی وابستگی عروج پر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ وہ رات ہو سکتی ہے جب ایم ایس دھونی دوبارہ میدان میں قدم رکھیں گے۔ چیپاک کا اسٹیڈیم یقینی طور پر اپنے ہیرو کو ایک بار پھر دیکھنے کے لیے کھچا کھچ بھرا ہوگا۔
مستقبل کے خدشات اور ریٹائرمنٹ کی بازگشت
جہاں مداح دھونی کی واپسی کے منتظر ہیں، وہیں ایک خوف بھی پایا جاتا ہے کہ کیا یہ آئی پی ایل کا آخری سیزن تو نہیں؟ اگر دھونی ایس آر ایچ کے خلاف اور گجرات ٹائٹنز کے خلاف آخری لیگ میچ میں شرکت نہیں کرتے، تو شائقین میں یہ قیاس آرائیاں مزید بڑھ جائیں گی کہ کیا وہ اب لیگ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
CSK کی موجودہ صورتحال
ایم ایس دھونی اس سیزن میں پنڈلی کی انجری (calf strain) سے نبردآزما رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے دوران لگی اس چوٹ کے باعث وہ اب تک کھیل کے کسی بھی میچ کا حصہ نہیں بن سکے۔ ان کی غیر موجودگی میں سنجو سیمسن نے وکٹ کیپنگ کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ چنئی سپر کنگز فی الحال پوائنٹس ٹیبل پر ساتویں نمبر پر ہے، اور پلے آف میں پہنچنے کے لیے انہیں اپنے باقی ماندہ میچوں میں جیت کے علاوہ دوسری ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔
- ٹیم کا توازن: دھونی کا ماننا ہے کہ ٹیم کے مڈل آرڈر کو چھیڑنا نقصان دہ ہو سکتا تھا۔
- انجری کا مسئلہ: پنڈلی کی انجری سے بحالی کے بعد بھی انہوں نے احتیاط کا دامن تھامے رکھا۔
- جذباتی پہلو: شائقین اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ آخری بار میدان میں نظر آئیں گے۔
ایم ایس دھونی کا کرکٹ کے میدان میں اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ چاہے وہ کھیلیں یا نہ کھیلیں، ان کی موجودگی ہی ٹیم کے لیے ایک بہت بڑا حوصلہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنے کیریئر کے اس آخری پڑاؤ پر مداحوں کو ایک آخری تحفہ دیتے ہیں یا نہیں۔
