آئی پی ایل 2026: بی سی سی آئی کا ویپنگ کے خلاف سخت ایکشن، ریان پراگ اور چہل کی مشکلات میں اضافہ
آئی پی ایل 2026 میں ویپنگ تنازعہ: بی سی سی آئی کا سخت پیغام
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 اپنے عروج پر ہے اور شائقین کرکٹ کے لیے یہ سیزن سنسنی خیز مقابلوں سے بھرپور رہا ہے۔ تاہم، میدان کے اندر کے جوش و خروش کے ساتھ ساتھ، کچھ ایسے غیر متوقع واقعات بھی پیش آئے ہیں جنہوں نے لیگ کے وقار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ حال ہی میں، پنجاب کنگز کے تجربہ کار اسپنر یوزویندر چہل اور راجستھان رائلز کے سٹار کھلاڑی ریان پراگ کو ویپنگ (vaping) کرتے ہوئے پکڑا گیا، جس نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
واقعہ کیا تھا؟
تفصیلات کے مطابق، ریان پراگ کو راجستھان رائلز اور پنجاب کنگز کے میچ کے دوران ڈریسنگ روم میں ویپ استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ دوسری جانب، یوزویندر چہل کو اپنی ٹیم کے ساتھیوں کے ساتھ سفر کے دوران اسی عمل میں ملوث پایا گیا۔ چونکہ بھارت میں ای-سگریٹ اور ویپنگ پر ‘پروہیبیشن آف الیکٹرانک سگریٹ ایکٹ (PECA) 2019’ کے تحت مکمل پابندی عائد ہے، اس لیے یہ عمل نہ صرف کرکٹ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔
بی سی سی آئی کی سخت کارروائی
بی سی سی آئی (BCCI) نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔ بورڈ کے سیکریٹری دیواجیت سیکیا نے ایک آٹھ صفحات پر مشتمل ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں تمام فرنچائزز کو خبردار کیا گیا ہے۔
- ریان پراگ پر جرمانہ: بی سی سی آئی نے ریان پراگ کے خلاف فوری ایکشن لیتے ہوئے ان پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کیا اور انہیں ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا ہے۔
- سخت ہدایات: سیکریٹری دیواجیت سیکیا نے واضح کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے مقامات، بشمول ڈریسنگ روم، ڈگ آؤٹ، ٹیم ہوٹل اور پریکٹس ایریاز میں ویپنگ اب ناقابل برداشت ہوگی۔
دیواجیت سیکیا نے اپنے بیان میں کہا: “ڈریسنگ روم اور دیگر محدود علاقوں میں ویپنگ کے واقعات بی سی سی آئی کے نوٹس میں آئے ہیں۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ انڈین قانون کے تحت ویپ اور الیکٹرانک سگریٹ ممنوع ہیں۔ ٹورنامنٹ کے احاطے میں ایسا کرنے والا ہر فرد نہ صرف آئی پی ایل کے ضوابط کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ وہ قابلِ دست اندازی جرم بھی کر رہا ہے۔”
ہوٹل کے کمروں میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی
صرف ویپنگ ہی نہیں، بی سی سی آئی نے آئی پی ایل 2026 میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ اب کھلاڑیوں کے ہوٹل کے کمروں میں کسی بھی غیر مجاز شخص کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کھلاڑیوں کے دوستوں یا اہل خانہ کو ہوٹل کے کمروں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے متعلقہ فرنچائز کے ٹیم مینیجر سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔ یہ قدم ممکنہ بدعنوانی کو روکنے اور لیگ کی پیشہ ورانہ ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
مستقبل کے لیے انتباہ
بی سی سی آئی کا یہ سخت رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ کھلاڑیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ایک بڑے پلیٹ فارم کا حصہ ہیں اور ان کا ہر عمل لاکھوں مداحوں کے لیے ایک مثال ہوتا ہے۔ آنے والے دنوں میں، امید کی جا رہی ہے کہ کرکٹرز ان ضوابط کی مکمل پاسداری کریں گے تاکہ لیگ کا وقار بحال رہے۔
آئی پی ایل انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ یہ نئے ضوابط، خاص طور پر ویپنگ پر پابندی، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ میدان کے باہر کا ماحول بھی اتنا ہی نظم و ضبط والا ہو جتنا کہ میدان کے اندر کا۔
