ہاردک پانڈیا کا ون ڈے مستقبل خطرے میں: بی سی سی آئی نے متبادل کی تلاش شروع کر دی
ہاردک پانڈیا کا مستقبل: کیا ون ڈے کرکٹ میں واپسی ممکن ہے؟
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے اسٹار آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا ایک بار پھر فٹنس کے مسائل کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کی جانب سے ان کی موجودہ حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ آیا وہ ون ڈے میچوں میں اپنے کوٹے کے 10 اوور مکمل کروانے کے قابل ہیں یا نہیں۔
سلیکٹرز کی تشویش اور پس منظر
حال ہی میں افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم کے انتخاب کے دوران ہاردک پانڈیا کی فٹنس بحث کا ایک اہم موضوع بنی رہی۔ اگرچہ انہیں اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، لیکن ان کے نام کے ساتھ ایک شرط منسلک ہے۔ سلیکٹرز کا واضح موقف ہے کہ ہاردک صرف اسی صورت میں ٹیم کا حصہ رہیں گے جب وہ اپنی فٹنس کو بغیر کسی شک و شبہ کے ثابت کر سکیں۔ یہ صورتحال نہ صرف پانڈیا بلکہ سابق انڈین کپتان روہت شرما کے لیے بھی یکساں ہے۔
آئی پی ایل 2026 اور انجری کا تسلسل
یہ تمام تحفظات آئی پی ایل 2026 کے دوران سامنے آئے، جب ہاردک نے کمر کے پٹھوں میں کھنچاؤ (back spasms) کی شکایت کی۔ اس انجری کی وجہ سے وہ ممبئی انڈینز کے تین اہم میچوں سے باہر رہے۔ بی سی سی آئی کے حکام اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ پانڈیا نے انجری کی شکایت کے بعد سینٹر آف ایکسیلنس (CoE) کو رپورٹ کرنے کے بجائے نجی سطح پر تربیت کو ترجیح دی۔ ممبئی انڈینز کی چنئی سپر کنگز کے خلاف 2 مئی کی شکست کے بعد سے ان کی میدان میں عدم موجودگی نے سلیکٹرز کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
کیریئر پر اثرات
ہاردک پانڈیا کا کیریئر طویل عرصے سے انجریز کی نذر رہا ہے۔ 2019 سے اب تک وہ متعدد سرجریوں سے گزر چکے ہیں، جس کا اثر ان کے ٹیسٹ کیریئر پر بھی پڑا۔ وہ 2018 کے بعد سے نہ صرف ٹیسٹ کرکٹ سے دور ہیں بلکہ ڈومیسٹک ریڈ بال کرکٹ میں بھی نظر نہیں آئے۔ سلیکٹرز کو خدشہ ہے کہ ون ڈے کرکٹ میں درکار ورک لوڈ، خاص طور پر 10 اوورز کی بولنگ، ان کے جسم پر بوجھ بن سکتی ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی: نئے آل راؤنڈرز کا عروج
2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے، بی سی سی آئی اب مزید رسک لینے کے حق میں نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق، سلیکٹرز نے پانڈیا کے متبادل کے طور پر نوجوان کھلاڑیوں نیتش کمار ریڈی اور ہرشیت رانا پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ یہ دونوں کھلاڑی پیس بولنگ آل راؤنڈر کے کردار میں خود کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بی سی سی آئی کا مؤقف
ایک سینئر بی سی سی آئی عہدیدار نے بتایا کہ ہاردک کو سلیکشن میٹنگ سے محض 48 گھنٹے قبل تک ان کی فٹنس کے خدشات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ ریلائنس کی سہولت اور وانکھیڑے اسٹیڈیم میں تربیت کر رہے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس طرح 10 اوورز کی بولنگ کی اہلیت ثابت کریں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا ہاردک پانڈیا اپنے پرانے فارم اور فٹنس کے ساتھ ون ڈے ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھ پاتے ہیں یا ٹیم انتظامیہ اب نئے راستوں کا انتخاب کرے گی۔
نتیجہ
ہاردک پانڈیا بلاشبہ ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں، لیکن بین الاقوامی کرکٹ کا سخت شیڈول اور بار بار کی چوٹیں ان کے لیے چیلنج بن چکی ہیں۔ بی سی سی آئی کی جانب سے متبادل کی تیاری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب صرف نام پر انحصار نہیں کیا جائے گا، بلکہ میدان میں کارکردگی اور مکمل فٹنس ہی ٹیم میں شمولیت کا واحد معیار ہوگی۔
