ویرات کوہلی اور روہت شرما کو پیچھے چھوڑ دیا! سابق بھارتی کوچ نے کسے بہترین آئی پی ایل اوپنر قرار دیا؟
آئی پی ایل اوپنرز کی بحث: کیا کوہلی اور روہت اپنی جگہ کھو چکے ہیں؟
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے جاری سیزن 2026 کے دوران، ایک ایسا بیان سامنے آیا ہے جس نے کرکٹ کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بھارتی ٹیم کے سابق کوچ سنجے بانگر نے ایک حالیہ انٹرویو میں آئی پی ایل کے بہترین اوپنرز کی درجہ بندی کرتے ہوئے ویرات کوہلی اور روہت شرما جیسے عظیم کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
سنجے بانگر کا غیر متوقع انتخاب
ای ایس پی این کرک انفو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، جب سنجے بانگر سے آئی پی ایل کے بہترین اوپنرز کی درجہ بندی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے سب کو حیران کرتے ہوئے سن رائزرز حیدرآباد کے نوجوان بلے باز ابھیشیک شرما کو پہلے نمبر پر رکھا۔ اس فہرست میں کوہلی دوسرے اور شبمن گل تیسرے نمبر پر رہے۔ بانگر کی فہرست میں روہت شرما پانچویں اور شیکھر دھون چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔
جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی بدلتی ضروریات
بانگر کا ماننا ہے کہ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اب مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ ان کے مطابق، ابھیشیک شرما کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ پاور پلے کے دوران انتہائی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہیں اور پہلی گیند سے ہی حریف بولرز پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
- ابھیشیک شرما: پاور پلے میں جارحیت اور تیز اسٹرائیک ریٹ۔
- ویرات کوہلی اور روہت شرما: روایتی بلے باز جو اکثر اینکر کا کردار ادا کرتے ہیں۔
بانگر نے وضاحت کی کہ ویرات اور روہت بلاشبہ عظیم کھلاڑی ہیں، لیکن ان کا کھیل زیادہ روایتی ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی کے موجودہ تقاضے جارحیت اور امپیکٹ (Impact) پر مبنی ہیں۔
اعداد و شمار بمقابلہ جارحانہ انداز
اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو شیکھر دھون آئی پی ایل کی تاریخ میں اوپنر کے طور پر سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں، جنہوں نے 202 میچوں میں 6362 رنز بنائے ہیں۔ ان کے بعد ڈیوڈ وارنر (5910 رنز) اور ویرات کوہلی (5388 رنز) کا نمبر آتا ہے۔ تاہم، بانگر کا استدلال یہ ہے کہ کرکٹ کے جدید فارمیٹ میں اب صرف رنز کی تعداد نہیں بلکہ بیٹنگ کا انداز اور اسٹرائیک ریٹ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
آئی پی ایل 2026: کارکردگی کا موازنہ
موجودہ سیزن میں ابھیشیک شرما شاندار فارم میں ہیں۔ وہ اورنج کیپ کی دوڑ میں 10 اننگز میں 440 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ دوسری جانب، ویرات کوہلی بھی پیچھے نہیں ہیں، جنہوں نے 9 اننگز میں 379 رنز بنائے ہیں۔ روہت شرما، جو انجری کے باعث کچھ میچز نہیں کھیل سکے، 5 اننگز میں 221 رنز بنا کر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔
نتیجہ
سنجے بانگر کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آئی پی ایل اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ٹیمیں ‘محفوظ’ کھیل کے بجائے ‘جارحانہ’ کھیل کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اگرچہ ابھیشیک شرما کا سفر ابھی شروع ہوا ہے، لیکن ان کی جارحانہ صلاحیتوں نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا مستقبل نوجوانوں کا ہے؟ کرکٹ شائقین کے لیے یہ سیزن دلچسپ رہے گا کیونکہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ابھیشیک اپنی اس کارکردگی کو برقرار رکھ پاتے ہیں یا تجربہ کار کھلاڑی ایک بار پھر بازی پلٹ دیں گے۔
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا ابھیشیک شرما واقعی کوہلی اور روہت سے بہتر اوپنر ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
