انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی مالی مشکلات: ایشز سیریز کے باوجود بھارت کا دورہ کیوں ضروری؟
انگلینڈ کرکٹ کا انحصار بھارت پر کیوں ہے؟
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے حال ہی میں اپنی مالیاتی رپورٹس میں ایک تشویشناک پیشگوئی کی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ 2027 کے مالی سال کے دوران انہیں ‘نمایاں نقصان’ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ نقصان تب ہوگا جب انگلینڈ کی سرزمین پر انتہائی مقبول اور تاریخی ‘ایشز سیریز’ کھیلی جا رہی ہوگی۔
ECB کی مالیاتی رپورٹس اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ بورڈ کے زیادہ تر منافع کا انحصار بھارت کے دورہ انگلینڈ پر ہوتا ہے۔ خاص طور پر، بھارت میں ان میچوں کے نشریاتی حقوق (Broadcast deals) انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے لیے آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
مالیاتی اعداد و شمار کی حقیقت
سال 2026 کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق، 31 جنوری 2026 کو ختم ہونے والے سال میں ECB نے منافع ریکارڈ کیا تھا۔ اس سال عام سرگرمیوں سے 12.6 ملین پاؤنڈ (تقریباً 163.41 کروڑ روپے) کا منافع ہوا اور ٹرن اوور میں 89.4 ملین پاؤنڈ (تقریباً 1,160 کروڑ روپے) کا اضافہ دیکھا گیا۔ ان شاندار اعداد و شمار کی بنیادی وجہ بھارت کا دورہ انگلینڈ تھا، جس سے براڈکاسٹ اور ٹکٹوں کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا۔
اس کے علاوہ، ‘دی ہنڈرڈ’ (The Hundred) کی آٹھ فرنچائزز کی فروخت سے 522.3 ملین پاؤنڈ (تقریباً 6,773 کروڑ روپے) کا منافع حاصل ہوا اور نقد ذخائر میں 72.8 ملین پاؤنڈ کا اضافہ ہوا۔ تاہم، بورڈ نے واضح کیا کہ یہ آمدنی کا چکر انتہائی غیر مستحکم ہے اور اس کا دارومدار حریف ٹیموں کی شیڈولنگ پر ہے۔
2027 کا بحران اور بھارتی ٹیم کی اہمیت
ECB کی رپورٹ میں کہا گیا ہے: “ہمیں اس حقیقت پر توجہ دینی چاہیے کہ ای سی بی کی آمدنی فطری طور پر چکر دار (Cyclical) ہے، جو کہ حریف ٹیموں کی سیریز پر منحصر ہے۔ جبکہ 2026 میں یہ صورتحال سازگار ہے، لیکن 2027 کا سیزن نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سال انگلینڈ کی ٹیم بھارت کی میزبانی نہیں کر رہی۔”
یہ بیان کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑی بحث کو جنم دیتا ہے، کیونکہ اب انگلینڈ بھی ان کرکٹ بورڈز کی فہرست میں شامل ہوتا جا رہا ہے جو بھارت کے دورے کے بغیر منافع کمانے سے قاصر ہیں۔
انگلینڈ کا مستقبل کا شیڈول
انگلینڈ کرکٹ بورڈ اس وقت اپنے مردوں اور خواتین کی ٹیموں کے مصروف شیڈول کے ساتھ گہرائی میں مصروف ہے۔ سابق آسٹریلوی بلے باز مارکس نارتھ کو مردوں کی ٹیم کا سلیکٹر مقرر کیا گیا ہے، جن کا پہلا اہم امتحان نیوزی لینڈ کے خلاف جون میں شروع ہونے والی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہوگی۔
اس کے بعد بھارت کی محدود اوورز کی سیریز، ‘دی ہنڈرڈ’، اور پھر پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز شیڈول ہے۔ گرما کے اختتام پر سری لنکا کی ٹیم محدود اوورز کی سیریز کے لیے دورہ کرے گی۔
خواتین کرکٹ کے لیے اہم سال
انگلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے آنے والا وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جون میں انگلینڈ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس بڑے ایونٹ کی تیاری کے سلسلے میں انگلینڈ کی ٹیم نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلے گی۔ ورلڈ کپ کے بعد، بھارت اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ پر ایک ٹیسٹ میچ بھی کھیلا جائے گا، جو شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک بڑی کشش ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی مالیاتی صحت کا دارومدار اب مکمل طور پر اس بات پر ہے کہ وہ کس طرح دیگر ٹیموں کے ساتھ سیریز کا انتظام کرتا ہے، کیونکہ بھارت کے ساتھ سیریز کا خلا ان کے بجٹ پر گہرا اثر ڈالنے کے لیے کافی ہے۔
