Get Cricket New
Cricket News

پی ایس ایل 2026: بابر اعظم کی شاندار سنچری، اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف دھواں دھار بیٹنگ

Joshi Rafael · · 1 min read

بابر اعظم کی واپسی: ناقدین کو دیا کرارا جواب اور پشاور زلمی کو दिलाई برتری

پاکستان سپر لیگ (PSL) 2026 کے سیزن میں ایک ایسا موڑ آیا ہے جس نے تمام کرکٹ تجزیہ کاروں اور شائقین کو حیران کر دیا ہے۔ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے گئے کوالیفائر میچ میں پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے اپنی بیٹنگ سے میدان مار لیا۔ ایک ایسے وقت میں جب ان کی فارم اور خاص طور پر اسٹرائیک ریٹ پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے تھے، بابر نے ایک دھواں دار سنچری بنا کر ثابت کر دیا کہ وہ اب بھی ٹی 20 فارمیٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔

شروعات اور بابر اعظم کی مضبوط بنیاد

میچ کا آغاز تب ہوا جب اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پشاور زلمی کی جانب سے بابر اعظم اور محمد حارث کی جوڑی نے آغاز سے ہی جارحانہ انداز اپنایا۔ دونوں کھلاڑیوں نے مل کر 72 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ قائم کی، جس نے زلمی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اگرچہ دوسری طرف سے وکٹیں گرتی رہیں، لیکن بابر اعظم نے ایک قلعے کی طرح اپنی وکٹ سنبھال کر رکھی اور اننگز کو ترتیب دیا۔

ایک کپتانی اننگز: اعداد و شمار کی زبان میں

بابر اعظم کی یہ سنچری محض رنز کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ‘کپٹنز ناک’ تھی جس نے پلی آف کے دباؤ کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ بابر نے صرف 59 گیندوں پر 103 رنز بنائے، جس میں 12 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ ان کی اس اننگز کا اسٹرائیک ریٹ 174.58 رہا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف رنز بنائے بلکہ کھیل کی رفتار کو بھی برقرار رکھا۔

اننگز کے درمیانی حصے میں بابر اعظم کو کسل مینڈس کا بھرپور ساتھ ملا۔ ان دونوں کے درمیان 84 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی، جس نے پشاور زلمی کے اسکور کو 200 کے પાર لے جانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کسل مینڈیس نے بھی 26 گیندوں پر 41 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیل کر بابر کا ساتھ دیا۔

ناقدین کی خاموشی اور جذباتی واپسی

یہ سنچری بابر اعظم کے کیریئر میں ایک بہت بڑے موڑ کی علامت ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بابر کو ان کے اسٹرائیک ریٹ کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا تھا، یہاں تک کہ انہیں پاکستان کی ٹی 20 انٹرنیشنل ٹیم سے بھی باہر کر دیا گیا تھا۔ شائقین اور ماہرین کا ماننا تھا کہ ان کی سست بیٹنگ فارمیٹ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

تاہم، بابر نے اس بار جواب الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے بلے سے دیا۔ انہوں نے اپنی سنچری کا جشن ایک شاندار چھکے کے ساتھ منایا، جس نے واضح طور پر ان تمام لوگوں کو خاموش کر دیا جو ان کی جارحیت پر شک کرتے تھے۔ سوشل میڈیا پر شائقین کی ایک بڑی تعداد نے بابر کی اس کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے محبت بھرے پیغامات بھیجے ہیں۔

پشاور زلمی کا مجموعہ اور آخری وار

اننگز کے اختتام پر پشاور زلمی نے 20 اوورز میں 221 رنز کا ایک بڑا مجموعہ کھڑا کیا۔ اگرچہ ایک مرحلے پر ٹیم نے چند وکٹیں تیزی سے گنوائیں، لیکن ایرون ہارڈی نے آخری لمحات میں بہترین بیٹنگ کی۔ ہارڈی نے صرف 10 گیندوں پر ناقابل شکست 20 رنز بنا کر اسکور کو مزید بلند کیا، جس نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے ہدف کو انتہائی مشکل بنا دیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی गेंदबाजी کی صورتحال

دوسری جانب، اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے شاداب خان سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ فہیم اشرف اور سلمان مرزا نے بھی ایک ایک وکٹ اپنے نام کی۔ تاہم، مجموعی طور پر اسلام آباد کی بولنگ لائن کنٹرول برقرار رکھنے میں ناکام رہی، خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں جہاں پشاور کے بلے بازوں نے کھل کر بیٹنگ کی۔ اب اسلام آباد کے سامنے 214 رنز کا ایک پہاڑ جیسا ہدف ہے جسے حاصل کرنا کسی بھی ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

ٹورنامنٹ کی اگلی صورتحال

اس کوالیفائر میچ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس میچ کا فاتح براہ راست پی ایس ایل 2026 کے فائنل میں جگہ بنائے گا۔ جبکہ ہارنے والی ٹیم کو ایک اور موقع ملے گا اور وہ ایلیمینیٹر 2 میں کھیلے گی، جو یکم مئی کو لاہور میں شیڈول ہے۔

بابر اعظم کی اس شاندار سنچری نے نہ صرف پشاور زلمی کے لیے جیت کی راہ ہموار کی ہے بلکہ کرکٹ کی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایک چیمپئن ہمیشہ واپسی جانتا ہے۔

Avatar photo
Joshi Rafael

Rafael Joshi is a seasoned cricket journalist known for his vibrant reporting style and ability to capture the pulse of the game. Having worked with major sports broadcasters in Mumbai and Delhi, Rafael has become a familiar face on Cricket Pulse, where his match analyses blend technical precision with storytelling flair. His expertise in batting mechanics and team dynamics makes him a trusted voice among fans and professionals alike. Outside of broadcasting, Rafael mentors aspiring commentators and contributes to Cricket World magazine through his column Behind the Boundary.