Get Cricket New
Cricket News

افغانستان کرکٹ بورڈ کا بڑا قدم: بھارتی لیگ میں شرکت پر تین کھلاڑیوں پر پابندی

Joshi Rafael · · 1 min read

افغانستان کرکٹ بورڈ کا سخت فیصلہ: تین کھلاڑیوں پر چار ماہ کی پابندی

افغانستان کرکٹ بورڈ (ACB) نے ایک انتہائی اہم اور سخت انتظامی اقدام کرتے ہوئے اپنے تین کرکٹرز پر بھاری پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ان کھلاڑیوں کی جانب سے بھارتی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں بورڈ کی پیشگی اجازت کے بغیر شرکت کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان کھلاڑیوں پر چار ماہ کی پابندی عائد کی گئی ہے، جس کے دوران وہ کسی بھی قسم کے مقامی یا بین الاقوامی میچز میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

افغانستان کرکٹ بورڈ اپنی ساکھ اور کھلاڑیوں کے نظم و ضبط کے حوالے سے ہمیشہ سے سخت رہا ہے۔ خاص طور پر ان کھلاڑیوں کے معاملے میں جو دنیا بھر کی مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کرتے ہیں، اے سی بی کی نظریں بہت سخت ہوتی ہیں۔ بورڈ کا موقف ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی لیگ میں کھیلنے سے پہلے بورڈ سے باقاعدہ اجازت نامہ (NOC) حاصل کرے۔

کن کھلاڑیوں پر پابندی لگائی گئی؟

اے سی بی نے جن کھلاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے ان میں سمیع اللہ شینواری، آفتاب عالم اور شہزاد محمد شامل ہیں۔ ان تینوں کھلاڑیوں نے ہندوستان میں منعقد ہونے والی ‘لیجنڈز لیگ کرکٹ’ (Legends League Cricket) میں شرکت کی تھی، لیکن اس کے لیے انہوں نے افغانستان کے اعلیٰ کرکٹ بورڈ سے ‘نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ’ (NOC) حاصل نہیں کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سمیع اللہ شینواری کی ٹیم، ‘رائل رائیڈرز پنجاب’ نے اس لیگ میں کامیابی حاصل کی اور فاتح بن کر ابھری۔ اسی ٹیم کا حصہ اسگر افغان بھی تھے، تاہم بورڈ نے اسگر افغان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی کیونکہ وہ پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں اور اب وہ بورڈ کے فعال کنٹریکٹ کے پابند نہیں ہیں۔

پابندی کی اصل وجوہات اور کرپشن کے خدشات

اے سی بی کی ناراضگی صرف NOC کے نہ ہونے تک محدود نہیں ہے، بلکہ بورڈ اس لیگ کی نوعیت سے بھی شدید نالاں ہے۔ جعفر ہاند کے ایک ٹویٹ کے مطابق، بورڈ کے ارکان کا ماننا ہے کہ ‘لیجنڈز لیگ’ کو نہ تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے اور نہ ہی بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) نے اسے باقاعدہ شناخت دی ہے۔

بورڈ کے مطابق، ایسی غیر تسلیم شدہ لیگز میں شرکت کرنے سے ‘دھوکہ دہی اور کرپشن’ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ٹویٹ میں واضح کیا گیا کہ: “بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ لیگ آفیشل طور پر آئی سی سی یا بھارتی بورڈ سے تسلیم شدہ نہیں ہے اور اس میں فراڈ اور کرپشن کا بہت زیادہ خطرہ موجود ہے۔”

کھلاڑیوں کا ردعمل اور موقف

اس پابندی کے بعد کھلاڑیوں کی جانب سے بھی کچھ ردعمل سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایک کھلاڑی نے لیگ شروع ہونے سے پہلے اے سی بی سے رابطہ کیا تھا اور اجازت مانگی تھی۔ تاہم، بورڈ کے ارکان کی جانب سے NOC کے عمل کو مسلسل طول دیا گیا اور کھلاڑی کو مطلوبہ دستاویزات وقت پر فراہم نہیں کی گئیں۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ لیگ کے کمشنر کے ساتھ پہلے ہی معاہدہ کر چکے تھے، اس لیے ان کے پاس کھیلنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

ایک اور اہم وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ان کھلاڑیوں نے طویل عرصے سے قومی ٹیم کے لیے نہیں کھیلا، جس کی وجہ سے انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں اے سی بی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، سمیع اللہ شینواری نے گزشتہ چار سالوں سے افغانستان کے لیے کوئی میچ نہیں کھیلا، اگرچہ انہوں نے باقاعدہ ریٹائرمنٹ نہیں لی۔ اسی طرح آفتاب عالم اور شہزاد محمد نے آخری بار 2023 میں اپنی قومی جرسی پہنی تھی۔

اے سی بی کی سخت پالیسیاں اور عالمی لیگز کا اثر

افغانستان کرکٹ بورڈ کی یہ سخت گیر پالیسی دراصل ایک بڑے تنازع کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کئی کنٹریکٹڈ کھلاڑیوں نے بین الاقوامی کرکٹ کے مقابلے میں ٹی ٹوئنٹی لیگز کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے، بورڈ نے رواں سال ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت ہر کھلاڑی کے لیے سالانہ زیادہ سے زیادہ تین غیر ملکی لیگز میں کھیلنے کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔

اس فیصلے سے خاص طور پر Rashid Khan، Noor Ahmad اور Rahmanullah Gurbaz جیسے اسٹار کھلاڑی متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر ان کی مانگ بہت زیادہ ہے اور وہ متعدد لیگز کی پہلی پسند رہتے ہیں۔

مجموعی طور پر، اے سی بی کا یہ اقدام یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے قومی مفادات اور بورڈ کے قواعد و ضوابط کسی بھی نجی لیگ یا مالی فائدے سے زیادہ اہم ہیں۔

Avatar photo
Joshi Rafael

Rafael Joshi is a seasoned cricket journalist known for his vibrant reporting style and ability to capture the pulse of the game. Having worked with major sports broadcasters in Mumbai and Delhi, Rafael has become a familiar face on Cricket Pulse, where his match analyses blend technical precision with storytelling flair. His expertise in batting mechanics and team dynamics makes him a trusted voice among fans and professionals alike. Outside of broadcasting, Rafael mentors aspiring commentators and contributes to Cricket World magazine through his column Behind the Boundary.