کیا ورات کوہلی اور روہت شرما کو ڈراپ کیا جا رہا تھا؟ افغانستان ون ڈے سیریز کے لیے سلیکٹرز کا بڑا فیصلہ
بھارتی کرکٹ کے دو عظیم ترین بلے بازوں، ورات کوہلی اور روہت شرما کے مستقبل کے حوالے سے حالیہ دنوں میں کافی بحث دیکھنے میں آئی ہے۔ جب چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی افغانستان کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے (ODI) سیریز کے لیے ٹیم کا انتخاب کرنے بیٹھی، تو سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ آیا ان دونوں سینئر کھلاڑیوں کو آرام دیا جائے یا انہیں اسکواڈ کا حصہ بنایا جائے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کام کے بوجھ (ورک لوڈ) کو سنبھالنے کے لیے انہیں اسکواڈ سے باہر رکھنے پر غور کیا جا رہا تھا، لیکن آخر کار سلیکٹرز نے ان دونوں لیجنڈز پر اپنا اعتماد برقرار رکھا اور انہیں افغانستان کے خلاف ون ڈے اسکواڈ میں شامل کر لیا۔
ورک لوڈ مینجمنٹ اور آرام دینے کی تجویز کا پس منظر
ورات کوہلی اور روہت شرما کو افغانستان کے خلاف ہوم سیریز سے دور رکھنے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ان کا موجودہ مصروف شیڈول تھا۔ یہ دونوں کھلاڑی اس وقت انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں اپنی اپنی فرنچائزز کی نمائندگی کر رہے ہیں اور مسلسل کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ روہت شرما ہیمسٹرنگ کی انجری کی وجہ سے ممبئی انڈینز کے چند میچوں میں شرکت نہیں کر سکے تھے، جبکہ دوسری جانب ورات کوہلی رائل چیلنجرز بنگلور کی جانب سے مسلسل اور تھکا دینے والے میچ کھیل رہے ہیں۔
سلیکشن کمیٹی کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اجلاس کے دوران ان دونوں کو آرام دینے پر سنجیدگی سے غور کیا گیا تھا۔ چیف سلیکٹر اور کوچنگ اسٹاف کے درمیان اس بات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا کہ آئی پی ایل کے فوری بعد ان سینئرز کو آرام دیا جائے تاکہ وہ مستقبل کے اہم معرکوں کے لیے تروتازہ رہ سکیں۔ تاہم، طویل غور و فکر کے بعد اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا اور دونوں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سلیکٹرز نے فیصلہ کیوں بدلا؟ اہم وجوہات
ذرائع کے مطابق، کوہلی اور روہت کو ٹیم میں برقرار رکھنے کے حق میں دو انتہائی ٹھوس دلائل سامنے آئے۔ پہلا اور اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ یہ دونوں اسٹارز اب کھیل کے تمام فارمیٹس میں سرگرم نہیں ہیں بلکہ اب وہ صرف ون ڈے فارمیٹ تک ہی محدود ہیں۔ چونکہ وہ صرف ایک ہی فارمیٹ کھیلتے ہیں، اس لیے سلیکٹرز کا ماننا تھا کہ ان کے لیے میچ ٹائم یعنی میدان میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا انتہائی ضروری ہے۔ مسلسل ون ڈے میچز کھیلنے سے ان کی تال برقرار رہے گی جو طویل فارمیٹ کے لیے اہم ہے۔
دوسرا اہم نکتہ ٹیم کی مجموعی ساخت اور نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی سے متعلق تھا۔ افغانستان کے خلاف اعلان کردہ ون ڈے اسکواڈ میں کئی نوجوان اور نوآموز کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ایسے میں ٹیم میں ورات کوہلی اور روہت شرما جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی نوجوانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوگی۔ سلیکٹرز کا خیال تھا کہ ان دونوں سینئرز کی موجودگی سے ٹیم میں توازن پیدا ہوگا اور نوجوان کھلاڑیوں کو ان کے تجربے سے سیکھنے کا سنہری موقع ملے گا۔
ٹیم بانڈنگ اور فٹنس کا جائزہ
سلیکشن کمیٹی کے قریبی ذرائع نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا: “پینل بشمول چیف سلیکٹر نے افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ چونکہ دونوں کھلاڑی اپنے آئی پی ایل میچوں میں باقاعدگی سے کھیل رہے ہیں، اس لیے انہیں آرام دینے کا ایک امکان موجود تھا۔ لیکن بعد میں یہ سوچا گیا کہ وہ صرف ایک ہی فارمیٹ کھیلتے ہیں، لہذا انہیں میچ ٹائم دینا زیادہ ضروری ہے۔”
ذرائع نے مزید کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم بانڈنگ کو بہتر بنانا بھی اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ تھی۔ “نوجوان کھلاڑی ان کے گرد رہ کر بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور ٹیم کے ماحول میں گھل مل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پینل نے انہیں آرام نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس ہوم سیریز کے ذریعے روہت اور ورات دونوں کو اپنی کارکردگی اور فٹنس کا جائزہ لینے کا موقع بھی ملے گا۔”
آئی پی ایل 2026 میں دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ایک نظر
اگر موجودہ آئی پی ایل 2026 کے سیزن کی بات کی جائے تو دونوں ہی کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ہے۔ روہت شرما، جو ہیمسٹرنگ کی انجری کے باعث ممبئی انڈینز کے 6 میچز نہیں کھیل پائے تھے، انہوں نے واپسی پر عمدہ بیٹنگ کی۔ انہوں نے اب تک 44.66 کی شاندار اوسط اور 164.41 کے دھماکہ خیز اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 268 رنز بنائے ہیں۔ ان کی فارم اور فٹنس دونوں ہی ٹیم کے لیے مثبت اشارے ہیں۔
دوسری طرف، رائل چیلنجرز بنگلور کے مایہ ناز اوپنر ورات کوہلی کا بلا بھی جم کر رنز اگل رہا ہے۔ بیٹنگ کے اس بے تاج بادشاہ نے اب تک اس آئی پی ایل سیزن میں 54.20 کی ناقابل یقین اوسط اور 164.74 کے زبردست اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 542 رنز اسکور کیے ہیں۔ کوہلی کی یہ مسلسل فارم اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ون ڈے سیریز میں افغانستان کے باؤلرز کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوں گے۔
مستقبل کی حکمت عملی اور 2027 کا ون ڈے ورلڈ کپ
افغانستان سیریز کے بعد بھی ورات کوہلی اور روہت شرما کے مستقبل کے حوالے سے چہ میگوئیاں جاری رہیں گی، خاص طور پر آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے حوالے سے۔ تاہم، سلیکشن کمیٹی کا موقف بالکل واضح ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ابھی ورلڈ کپ بہت دور ہے اور فی الحال کسی بھی کھلاڑی کی جگہ ٹیم میں مستقل طور پر پکی نہیں ہے۔ تمام کھلاڑیوں بشمول ان دونوں سینئرز کا انتخاب ان کی آنے والی فارم اور فٹنس کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق: “ورلڈ کپ ابھی بہت دور ہے، اور کوئی بھی کھلاڑی مستقل طور پر ٹیم میں اندر یا باہر نہیں ہے۔ ان کا یا کسی بھی دوسرے کھلاڑی کا انتخاب ان کی فٹنس اور کارکردگی کی بنیاد پر ہی ہوگا۔” اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کوہلی اور روہت کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے مسلسل پرفارم کرنا ہوگا، اور افغانستان کے خلاف ہوم سیریز ان کے لیے اپنی کلاس ثابت کرنے کا ایک اور بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔
