Get Cricket New
Latest Cricket News

ایم ایس دھونی کا چنئی سپر کنگز چھوڑنے کا فیصلہ؟ سی ایس کے انتظامیہ کے ساتھ بڑھتی دوریاں

Joshi Rafael · · 1 min read

کیا ایم ایس دھونی اور چنئی سپر کنگز کا تاریخی سفر اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے؟

کرکٹ کی دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کا تصور کرنا بھی ناممکن لگتا ہے۔ ایم ایس دھونی کو چنئی سپر کنگز (CSK) کے علاوہ کسی دوسری فرنچائز کی جرسی میں دیکھنا بھی ایک ایسا ہی تصور ہے۔ دھونی اور چنئی سپر کنگز کا رشتہ محض ایک کھلاڑی اور فرنچائز کا نہیں رہا، بلکہ یہ محبت، وفاداری اور بے پناہ کامیابیوں کی ایک ایسی داستان ہے جس نے کروڑوں دلوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ لیکن اب جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ دنیا بھر میں پھیلے “تھالا” کے مداحوں کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہیں۔ موجودہ حالات اور باوثوق ذرائع کے دعووں کے مطابق، اس سیزن کے اختتام پر مہندر سنگھ دھونی اور چنئی سپر کنگز کی راہیں ہمیشہ کے لیے جدا ہو سکتی ہیں۔

آئی پی ایل 2026 اور دھونی کی پراسرار غیر حاضری

آئی پی ایل 2026 کا سیزن کئی لحاظ سے غیر معمولی رہا ہے، لیکن سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایم ایس دھونی اس پورے سیزن میں ایک بھی میچ کھیلنے کے لیے میدان میں نہیں اترے۔ گروپ مرحلے کا صرف ایک میچ باقی رہ گیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق دھونی کے اس آخری میچ میں بھی شرکت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سیزن کے دوران متعدد مواقع پر ہیڈ کوچ اور ٹیم انتظامیہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ 44 سالہ دھونی مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ الیون کا حصہ نہیں بن پا رہے۔ تاہم، اس دعوے کے برعکس، دھونی کو نیٹ پریکٹس کے دوران بالکل فٹ اور بھرپور شاٹس کھیلتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس تضاد نے مداحوں اور کرکٹ ماہرین کے ذہنوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سی ایس کے انتظامیہ اور دھونی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج

دھونی کی اس پراسرار غیر حاضری کے پیچھے اب جو وجوہات سامنے آ رہی ہیں، وہ انتہائی چونکا دینے والی ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چنئی سپر کنگز کی انتظامیہ اور سابق کپتان ایم ایس دھونی اب ایک پیج پر نہیں رہے ہیں۔ دونوں فریقین کے مابین تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ اب ان کی واپسی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ایک معتبر ذریعہ نے انکشاف کیا ہے کہ “دھونی اور سی ایس کے کے درمیان تعلقات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ تھالا اب آئی پی ایل 2026 کے بعد پیلی جرسی میں نظر نہیں آئیں گے۔ اس سال فرنچائز نے دھونی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا، جس کی وجہ سے وہ شدید مایوس اور ناراض ہیں۔”

بغیر مشاورت کے بڑے فیصلے: سنجو سیمسن اور رویندرا جڈیجہ کا معاملہ

رپورٹ میں یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ چنئی سپر کنگز کی انتظامیہ نے گزشتہ دو سالوں کے دوران ٹیم کی تشکیل نو کے حوالے سے کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے دھونی سے مشاورت کرنا گوارا نہیں کیا۔ سب سے زیادہ اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب سنجو سیمسن کی ٹیم میں شمولیت اور رویندرا جڈیجہ کی ٹریڈ سے متعلق فیصلے کیے گئے۔ یہ تمام اہم فیصلے دھونی کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے، جس پر وہ شدید ناخوش تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ایس کے مینجمنٹ اب مستقبل کے لیے ایک نئی ٹیم تیار کرنا چاہتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ سینئر کھلاڑیوں سے آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، لیکن اس عمل میں دھونی جیسے لیجنڈ کو سائیڈ لائن کرنا فرنچائز کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

روی چندرن ایشون کا چشم کشا تبصرہ: الوداعی چکر میں اداسی

چنئی سپر کنگز نے رواں سیزن کا اپنا آخری ہوم میچ 18 مئی کو سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف کھیلا۔ میچ کے اختتام پر، ایم ایس دھونی نے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم (چپاک) کے تماشائیوں سے بھرے اسٹینڈز کے سامنے گراؤنڈ کا ایک چکر (لیپ آف آنر) لگایا۔ اس الوداعی چکر کو دیکھ کر اسٹیڈیم میں موجود ہر آنکھ نم تھی، لیکن دھونی کے سابق ساتھی کھلاڑی اور مایہ ناز اسپنر روی چندرن ایشون نے اس دوران کچھ ایسا محسوس کیا جو عام شائقین کی نظروں سے اوجھل رہا۔ ایک آن لائن بحث کے دوران ایشون نے انکشاف کیا کہ “دھونی چنئی سپر کنگز سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، لیکن جب وہ گزشتہ روز الوداعی چکر لگا رہے تھے، تو مجھے ان کے چہرے پر وہ روایتی مسکراہٹ اور خوشی نظر نہیں آئی جو ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔ اس بار کچھ مختلف تھا، میں نہیں جانتا کہ ایسا کیوں تھا لیکن ان کے چہرے پر وہ خوشی بالکل غائب تھی۔” ایشون کے اس بیان نے ان افواہوں کو مزید ہوا دی ہے کہ دھونی اور انتظامیہ کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

مستقبل کی منصوبہ بندی یا بیوفائی؟

ہر فرنچائز کو ایک نہ ایک دن مستقبل کی طرف بڑھنا ہوتا ہے اور نوجوان کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس منتقلی کے عمل کو مزید بہتر اور باوقار طریقے سے انجام نہیں دیا جا سکتا تھا؟ ایم ایس دھونی صرف ایک کھلاڑی نہیں ہیں، وہ چنئی سپر کنگز کی پہچان اور اس کی روح ہیں۔ انہوں نے اپنی کپتانی میں ٹیم کو متعدد بار آئی پی ایل چیمپیئن بنایا اور تمل ناڈو کے عوام کے دلوں میں اپنے لیے ایک لازوال مقام پیدا کیا۔ اگر سنجو سیمسن کی آمد اور جڈیجہ کے معاملات پر دھونی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، تو یہ یقینی طور پر ایک مایوس کن رویہ ہے۔ اب جب کہ سیزن اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے، چنئی کے مداحوں کے دلوں میں یہ خوف بیٹھ گیا ہے کہ شاید وہ اپنے چہیتے “تھالا” کو دوبارہ کبھی پیلی جرسی میں نہیں دیکھ پائیں گے۔ کرکٹ کی تاریخ میں یہ باب کس موڑ پر ختم ہوگا، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

Avatar photo
Joshi Rafael

Rafael Joshi is a seasoned cricket journalist known for his vibrant reporting style and ability to capture the pulse of the game. Having worked with major sports broadcasters in Mumbai and Delhi, Rafael has become a familiar face on Cricket Pulse, where his match analyses blend technical precision with storytelling flair. His expertise in batting mechanics and team dynamics makes him a trusted voice among fans and professionals alike. Outside of broadcasting, Rafael mentors aspiring commentators and contributes to Cricket World magazine through his column Behind the Boundary.