بی سی سی آئی اور آئی پی ایل فرنچائزز: کھلاڑیوں کی فٹنس پر بڑھتی ہوئی تشویش
آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی فٹنس: ایک سنگین چیلنج
کرکٹ کی دنیا میں، خاص طور پر انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے دوران، کھلاڑیوں کے ورک لوڈ اور انجریز کے ساتھ میدان میں اترنے کا معاملہ ہمیشہ سے ہی بحث کا موضوع رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ورون چکرورتی کا معاملہ اس بحث کو مزید ہوا دے چکا ہے، جہاں رپورٹس کے مطابق وہ بائیں پاؤں میں ہیئر لائن فریکچر کے باوجود کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کی جانب سے بولنگ کرتے رہے۔
بی سی سی آئی کا مؤقف: کیا بورڈ بے بس ہے؟
اس بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان، بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سیکیا نے ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ بی سی سی آئی کے پاس آئی پی ایل فرنچائزز کے فیصلوں پر مکمل اختیار نہیں ہے۔ سیکیا نے کہا، “آئی پی ایل کے معاملے میں، فرنچائزز ہی کھلاڑیوں کی انجری اور فٹنس کا خیال رکھتی ہیں۔ اگرچہ ہمارے سینٹر آف ایکسیلنس (CoE) کے فزیوز ان کی نگرانی کرتے ہیں، لیکن آئی پی ایل کے دوران ہم ان کے معاملات میں زیادہ مداخلت نہیں کر سکتے۔”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر معاملہ براہ راست انڈین نیشنل ٹیم کا ہوتا تو بورڈ کا کنٹرول کہیں زیادہ ہوتا۔ فی الحال، بورڈ فرنچائزز کو کھلاڑیوں کے حوالے سے فیصلے کرنے کی آزادی دیتا ہے، تاہم نیشنل ٹیم کے انتخاب کے وقت ان کی فٹنس لیول کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے۔
اجیت اگرکر کا طبی عملے پر اعتماد
بی سی سی آئی کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے بھی اس صورتحال پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سلیکٹرز مکمل طور پر ٹرینرز اور فزیوتھراپسٹ کی رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ اگرکر نے کہا، “کبھی کبھی کھلاڑی خود بہتر جانتا ہے کہ وہ درد کے باوجود کھیل سکتا ہے یا نہیں۔ میں یہاں بیٹھ کر یہ نہیں بتا سکتا کہ کون معمولی چوٹ کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ لیکن اگر فزیو مجھے یہ بتاتا ہے کہ کھلاڑی فٹ ہے، تو مجھے ان پر مکمل بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔”
دیگر کھلاڑیوں کی فٹنس پر سوالات
ورون چکرورتی کا معاملہ صرف ایک مثال ہے۔ رپورٹس کے مطابق، کئی دیگر کھلاڑی بھی فٹنس مسائل سے دوچار ہیں۔ آرشدیپ سنگھ کی انجری کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، جبکہ روہت شرما اور ہاردک پانڈیا کی آئندہ سیریز میں شرکت کا دارومدار مکمل طور پر بی سی سی آئی سے ملنے والی فٹنس کلیئرنس پر ہے۔
نتیجہ
کرکٹ میں کھلاڑیوں کی لمبی عمر اور ان کی صحت کا تحفظ سب سے اہم ہے۔ اگرچہ آئی پی ایل ایک کمرشل ٹورنامنٹ ہے، لیکن کھلاڑیوں کو ان کی انجریز کے باوجود دباؤ میں کھلانا نہ صرف ان کے کیریئر بلکہ نیشنل ٹیم کی کارکردگی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ بی سی سی آئی کو مستقبل میں فرنچائزز کے ساتھ مل کر کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے سخت پروٹوکولز وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہترین کھلاڑیوں کو میدان میں برقرار رکھا جا سکے۔
تصویری کریڈٹ: بی سی سی آئی سیکرٹری دیواجیت سیکیا، نائٹا امبانی، ہاردک پانڈیا اور ماہیکا شرما (تصویر: X)
