ابوظہبی حکومت نے ٹی 10 لیگ کے اکثریتی حصص خرید لیے: ایک نئے دور کا آغاز
کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب: ابوظہبی حکومت کی ٹی 10 لیگ میں شمولیت
حالیہ برسوں میں فرینچائز کرکٹ نے دنیا بھر میں ٹیلنٹ کو نکھارنے اور کرکٹ کے شائقین کو محظوظ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تقریباً ہر بڑی کرکٹنگ قوم کی اپنی ٹی 20 لیگ موجود ہے۔ تاہم، 2017 میں متحدہ عرب امارات میں ایک انقلابی تجربہ کیا گیا جب پہلی بڑی ٹی 10 لیگ، ‘ابوظہبی ٹی 10 لیگ’ کا آغاز ہوا۔ اب اس لیگ کے دسویں ایڈیشن سے قبل ایک تاریخی موڑ آ گیا ہے، جس میں حکومت کی براہ راست مداخلت نے اس کے مستقبل کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ کی موجودگی میں ہونے والی ان تبدیلیوں نے کرکٹ کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت کا اس لیگ میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ کرکٹ اب محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک بڑی تجارتی اور ریاستی صنعت بن چکا ہے۔
ابوظہبی حکومت کی کرکٹ میں باقاعدہ انٹری
ابوظہبی ٹی 10 لیگ، جس کے بانی ‘ٹی ٹین اسپورٹس’ کے شجیع الملک ہیں، نے اب اپنے اکثریتی حصص ابوظہبی اسپورٹس کونسل کو فروخت کر دیے ہیں۔ اس اہم شراکت داری کا مطلب یہ ہے کہ اب حکومت کے پاس لیگ کے تجارتی مستقبل، عالمی سطح پر اس کی توسیع اور گورننس کے معاملات پر پہلے سے کہیں زیادہ کنٹرول ہوگا۔
یہ ٹورنامنٹ، جو 2017 میں شروع ہوا تھا، ابتدائی طور پر شارجہ میں منعقد کیا گیا تھا تاکہ نوجوان شائقین مختصر اور ٹی وی کے لیے موزوں میچوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اس کی ابتدائی کامیابی کے بعد، اسے اگلے برسوں میں دبئی تک پھیلا دیا گیا۔ 2019 اس لیگ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا جب ابوظہبی نے اس کی میزبانی کے خصوصی حقوق حاصل کر لیے، جس کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے ‘ابوظہبی ٹی 10’ رکھ دیا گیا۔
ٹی 10 کرکٹ کا نیا دور اور علاقائی مسابقت
حالیہ سالوں میں، خلیجی ممالک کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی میزبانی میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ کھیلوں میں ‘آئل منی’ کی سرمایہ کاری اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اب پڑوسی ممالک کے درمیان ایک خاموش مقابلہ شروع ہو چکا ہے۔ سعودی عرب میں ‘ڈیونز لیگ ٹی 20’ کے اعلان کے بعد، امارات کرکٹ بورڈ کے تعاون سے چلنے والی اس ٹی 10 لیگ میں حکومتی مداخلت اس کی تجارتی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سمجھی جا رہی تھی۔
توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی سرپرستی میں لیگ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لائی جائیں گی تاکہ اسے مشرق وسطیٰ میں کرکٹ کی سب سے پرکشش منزل کے طور پر برقرار رکھا جا سکے۔ اس شراکت داری سے نہ صرف مالی استحکام آئے گا بلکہ عالمی سطح پر نئے اسپانسرز اور براڈکاسٹرز کی توجہ بھی حاصل ہوگی۔
لیگ کی کامیابی اور اب تک کے ریکارڈز
گزشتہ نو سیزن کے دوران، اس لیگ نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ٹیموں کی ملکیت میں تبدیلیاں اور نئے فارمیٹس کے تعارف نے اسے ایک جاندار مقابلہ بنا دیا ہے۔ معین علی، نکولس پورن، فاف ڈو پلیسس اور لیام لیونگسٹون جیسے عالمی ستاروں نے اس لیگ میں ٹیموں کی قیادت کی ہے، جو اس کے برانڈ کی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اب تک کے 9 سیزن میں ڈیکن گلیڈی ایٹرز نے سب سے زیادہ 3 بار ٹرافی اپنے نام کی ہے۔ بیٹنگ کے شعبے میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے اسٹار روومین پاول 1346 رنز کے ساتھ سرفہرست ہیں، جبکہ باؤلنگ میں افغانستان کے لیگ اسپنر قیس احمد نے سب سے زیادہ 40 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔
کیا ٹی 10 کرکٹ کا مستقبل ہے؟
متحدہ عرب امارات میں مقامی نوجوانوں کو ایکسپوژر دینے اور عالمی ستاروں کو راغب کرنے کے لیے شروع ہونے والے اس فارمیٹ نے اب دنیا کے دیگر حصوں میں بھی اپنی جگہ بنا لی ہے۔ وہ کرکٹ بورڈز جن کے پاس اپنی ٹی 20 لیگ نہیں ہے، وہ اس ماڈل کی نقل کر رہے ہیں، جیسا کہ ‘زم افرو ٹی 10 لیگ’۔ اس کے علاوہ یورپ میں بھی ٹی 10 کے متعدد مقابلے ہو رہے ہیں اور سری لنکا نے بھی چند سال قبل ‘لنکا ٹی 10 سپر لیگ’ کا آغاز کیا ہے۔
اگرچہ اس وقت ٹی 20 وائٹ بال کرکٹ کا سب سے مقبول فارمیٹ ہے اور ٹی 10 کو ابھی تک بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا، لیکن یہ ریٹائرڈ اور بین الاقوامی کرکٹ سے دور کھلاڑیوں کے لیے بہترین ذریعہ معاش بن چکا ہے۔ تاہم، باقاعدہ کرکٹ شائقین کے درمیان اس کی مقبولیت ابھی بھی ٹی 20 کے مقابلے میں کم ہے۔ ابوظہبی حکومت کی شمولیت کے بعد اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ فارمیٹ اولمپکس یا دیگر بڑے بین الاقوامی ایونٹس تک رسائی حاصل کر پاتا ہے یا نہیں۔
خلاصہ یہ کہ ابوظہبی اسپورٹس کونسل کی جانب سے اکثریتی حصص کی خریداری محض ایک کاروباری معاہدہ نہیں بلکہ ٹی 10 کرکٹ کو ایک عالمی طاقت بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔ دسویں ایڈیشن کے آغاز کے ساتھ ہی شائقین کو ایک نئے اور بہتر انداز میں کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔
