Get Cricket New
News

ڈیوڈ ملر کا صبر: دہلی کیپٹلز کے لیے پلے آف کی امیدیں اور ملر کا ردعمل

Neha Kapoor · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: ڈیوڈ ملر کی مایوسی اور دہلی کیپٹلز کا کٹھن سفر

عالمی کرکٹ میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے ایک مستند بلے باز کے طور پر پہچانے جانے والے ڈیوڈ ملر کے لیے آئی پی ایل 2026 کا حالیہ مرحلہ کافی آزمائش سے بھرا رہا ہے۔ دہلی کیپٹلز (DC) کی ٹیم کے کمبی نیشن اور حکمت عملی کے تحت، ملر کو گزشتہ دو میچوں میں پلیئنگ الیون سے باہر بیٹھنا پڑا ہے۔ ٹیم انتظامیہ نے پاتھم نسانکا کو ٹاپ آرڈر میں شامل کرنے اور مچل سٹارک کے دیر سے آنے کے بعد لنگی نگیڈی کے ساتھ انہیں ٹیم میں فٹ کرنے کو ترجیح دی ہے۔

مایوسی کے باوجود پیشہ ورانہ رویہ

کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے خلاف جمعہ کو ہونے والے اہم مقابلے سے ایک روز قبل، ڈیوڈ ملر نے کھل کر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “ظاہر ہے یہ مایوس کن ہے، کیونکہ آپ ہمیشہ ہر میچ کھیلنا چاہتے ہیں۔ لیکن آئی پی ایل کا ڈھانچہ ہی کچھ ایسا ہے کہ صرف چار غیر ملکی کھلاڑیوں کی گنجائش ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ٹیم کا توازن بہت اہمیت رکھتا ہے۔”

ملر، جو 2012 سے آئی پی ایل کا حصہ ہیں، ٹیم کے ساتھ اپنے کردار کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ان کا کام ٹیم کے باقی کھلاڑیوں کو مثبت فیڈ بیک دینا اور ہر ممکن تعاون کرنا ہے۔ “میں صرف اپنے موقع کا انتظار کر رہا ہوں۔ اگر مجھے باقی سیزن میں کھیلنے کا موقع ملا تو میں تیار رہوں گا۔”

پلے آف کی دوڑ: جیتنا اب لازم ہے

دہلی کیپٹلز اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر ساتویں نمبر پر موجود ہے، جس نے دس میں سے چھ میچوں میں شکست کھائی ہے۔ ملر کا ماننا ہے کہ اب ٹیم کے لیے واپسی کا راستہ صرف جیت سے گزرتا ہے۔ “ہمیں اپنے باقی تمام چار میچ جیتنا ہوں گے۔ یہ مشکل ہے لیکن ہم میدان میں ہارنے کے لیے نہیں اترتے۔ ہم نے اپنی غلطیوں کا تجزیہ کیا ہے اور ہم نے بری کرکٹ نہیں کھیلی، بس میچ کے کچھ چھوٹے لمحات میں ہم نے خود کو مایوس کیا ہے۔”

بیٹنگ اور پچز کے چیلنجز

ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے ملر نے تسلیم کیا کہ کے ایل راہول اور ٹرسٹن سٹبز کے علاوہ بیٹنگ میں تسلسل کا فقدان رہا ہے۔ پچز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دہلی کی پچز کا رویہ غیر متوقع رہا ہے، جہاں ایک طرف 260 رنز کا ٹوٹل بنا تو دوسری طرف کم اسکورنگ میچ بھی دیکھنے کو ملے۔

ملر نے نشاندہی کی کہ ٹیم کے لیے سب سے بڑی مشکل یکے بعد دیگرے وکٹیں گنوانا ہے، جو ٹیم کو دباؤ میں ڈال دیتی ہے۔ “جب آپ تیزی سے دو یا تین وکٹیں کھو دیتے ہیں، تو آپ کو دوبارہ اننگز تعمیر کرنی پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ، کیچز چھوڑنا بھی ان اہم لمحات میں سے ایک رہا ہے جس نے میچ کے نتائج کو متاثر کیا۔”

مستقبل کی حکمت عملی

دہلی کیپٹلز کے لیے اب ہر میچ ایک ‘ناک آؤٹ’ مقابلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملر کا ماننا ہے کہ ٹیم کو ہر مرحلے پر اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ آئی پی ایل جیسی مسابقتی لیگ میں کوئی بھی ٹیم کسی کو بھی ہرا سکتی ہے، اس لیے دہلی کیپٹلز کو پلے آف کی دوڑ میں برقرار رہنے کے لیے اپنی غلطیوں پر قابو پانا ہوگا۔ کیا ملر کو اگلے میچ میں موقع ملے گا؟ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ وہ میدان میں واپسی کے لیے پرعزم ہیں۔