Rishabh Pant’s Captaincy Record In IPL – رشابھ پنت کا آئی پی ایل میں بطور کپتان ریکارڈ: لکھنؤ سپر جائنٹس سے علیحدگی کے بعد مکمل تجزیہ
رشابھ پنت کا لکھنؤ سپر جائنٹس کی کپتانی سے استعفیٰ: ایک عہد کا خاتمہ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی سب سے نئی فرنچائزز میں سے ایک، لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن انتہائی مایوس کن ثابت ہوا۔ اسٹار وکٹ کیپر بلے باز رشابھ پنت کی قیادت میں کھیلنے والی یہ ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے دسویں نمبر پر رہی۔ پورے سیزن میں لکھنؤ کی ٹیم 14 میچوں میں سے صرف 4 میچ جیتنے میں کامیاب ہو سکی جبکہ اسے 10 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد، رشابھ پنت نے دو سال تک ٹیم کی قیادت کرنے کے بعد کپتانی کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آئی پی ایل 2026 میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے ساتھ کیا غلط ہوا؟
سنجیو گوئنکا کی ملکیت والی فرنچائز لکھنؤ سپر جائنٹس نے آئی پی ایل 2025 کے میگا آکشن میں رشابھ پنت کو ریکارڈ 27 کروڑ روپے کی بھاری رقم میں خریدا تھا، جس کے بعد وہ آئی پی ایل کی تاریخ کے مہنگے ترین کھلاڑی بن گئے تھے۔ تاہم، یہ شراکت داری پنت اور فرنچائز دونوں کے لیے اگلے دو سالوں میں ڈراؤنا خواب ثابت ہوئی۔
لکھنؤ سپر جائنٹس آئی پی ایل 2025 اور 2026 دونوں سیزنز میں پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔ ایک مضبوط اور جارحانہ اسکواڈ ہونے کے باوجود، لکھنؤ کی بیٹنگ لائن بری طرح فلاپ رہی۔ ٹیم کے اہم بین الاقوامی کھلاڑی، بشمول رشابھ پنت اور نکولس پورن، توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ حیرت انگیز طور پر، مچل مارش کے علاوہ لکھنؤ کا کوئی بھی دوسرا بلے باز ٹورنامنٹ کے ٹاپ 20 رنز بنانے والوں کی فہرست میں جگہ نہیں بنا سکا۔
اس کے علاوہ، لکھنؤ کا ہوم گراؤنڈ، یعنی ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم، جو ماضی میں اپنی اسپن فرینڈلی پچ کے لیے مشہور تھا اور جہاں ہوم ٹیم کو برتری حاصل ہوتی تھی، 2026 کے سیزن میں مہمان ٹیموں کو کوئی خاص نقصان نہ پہنچا سکا۔ اس کے نتیجے میں لکھنؤ کو اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر کئی سخت شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سیزن کے مایوس کن خاتمے کے فوراً بعد، رشابھ پنت کو ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم کی نائب کپتانی کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا، جس نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔
رشابھ پنت کا آئی پی ایل میں اب تک کا سفر
دہلی سے تعلق رکھنے والے جارح مزاج وکٹ کیپر بلے باز رشابھ پنت نے آئی پی ایل میں بہت کم وقت میں بڑا نام کمایا ہے۔ انہوں نے اپنے آئی پی ایل کیریئر کا آغاز 27 اپریل 2016 کو دہلی ڈیر ڈیولز (موجودہ دہلی کیپیٹلز) کی طرف سے گجرات لائنز کے خلاف کھیلتے ہوئے دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں کیا تھا۔
وہ جلد ہی دہلی کی فرنچائز کا اہم چہرہ بن گئے اور 2018 کے سیزن میں انہوں نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 684 رنز بنائے۔ سال 2021 میں، شریاس अय्यर کے زخمی ہونے کے بعد انہیں دہلی کیپیٹلز کی کپتانی سونپی گئی، جہاں انہوں نے ٹیم کو پوائنٹس ٹیبل کے ٹاپ پر پہنچایا۔ تاہم، اگلے سیزنز میں وہ اس کارکردگی کو دہرانے میں ناکام رہے، جس کے باعث بالآخر انہوں نے دہلی کیپیٹلز سے علیحدگی اختیار کر لی۔ نومبر 2024 میں وہ آئی پی ایل تاریخ کے سب سے مہنگے کھلاڑی کے طور پر لکھنؤ سپر جائنٹس کا حصہ بنے، لیکن مئی 2026 میں انہوں نے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا۔
رشابھ پنت کا آئی پی ایل کپتانی ریکارڈ: دہلی بمقابلہ لکھنؤ
رشابھ پنت کا بطور کپتان آئی پی ایل سفر اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا ہے۔ یہاں ان کے دونوں فرنچائزز کے ساتھ کپتانی کے ریکارڈز کا موازنہ پیش کیا گیا ہے:
1. دہلی کیپیٹلز (DC) میں بطور کپتان ریکارڈ
دہلی کیپیٹلز کے ساتھ پنت کا بطور کپتان ریکارڈ کافی بہتر رہا۔ اگرچہ ان کا یہ سفر 2023 میں ایک سنگین کار حادثے کی وجہ سے متاثر ہوا، جس کی وجہ سے وہ اس سیزن میں حصہ نہیں لے سکے تھے، لیکن انہوں نے 2024 میں شاندار واپسی کی اور دوبارہ ٹیم کی قیادت سنبھالی۔
- کل میچز بطور کپتان: 43
- جیتے گئے میچز: 23
- ہارے گئے میچز: 19
- جیت کا تناسب (Win Percentage): 53.48%
2. لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) میں بطور کپتان ریکارڈ
لکھنؤ سپر جائنٹس کے کپتان کے طور پر پنت کے اعداد و شمار ان کی صلاحیتوں کے مطابق نہ رہے۔ دو سیزنز کے دوران وہ ٹیم کو پلے آف تک لے جانے میں ناکام رہے اور 2026 میں ٹیم آخری پوزیشن پر رہی۔
- کل میچز بطور کپتان: 28
- جیتے گئے میچز: 11
- ہارے گئے میچز: 17
مستقبل کی راہ اور چیلنجز
لکھنؤ سپر جائنٹس کی کپتانی چھوڑنے کے بعد اب رشابھ پنت کے سامنے اپنے بلے بازی کے فارم کو بحال کرنے اور بطور ٹی 20 کھلاڑی خود کو دوبارہ ثابت کرنے کا بڑا چیلنج ہے۔ پے در پے ناکام سیزنز اور ہندوستانی ٹیم کی نائب کپتانی سے محرومی کے بعد، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پنت آنے والے سیزنز میں کس فرنچائز کا حصہ بنتے ہیں اور بطور کھلاڑی اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کس طرح بحال کرتے ہیں۔
