‘MS Dhoni was seething’: IPL broadcaster’s stunning revelation on CSK’s loss to – ایم ایس دھونی کا غصہ: آر سی بی کے خلاف شکست کے بعد اندرونی کہانی
آئی پی ایل 2024: دھونی کا غصہ اور شکست کی تلخ یادیں
کرکٹ کی دنیا میں ایم ایس دھونی کو ‘کیپٹن کول’ کے نام سے جانا جاتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب یہ لیجنڈ کھلاڑی غصے میں ہوتا ہے تو کیا منظر ہوتا ہے؟ آئی پی ایل 2024 کا وہ میچ، جو 18 مئی 2024 کو ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، چنئی سپر کنگز (CSK) کے مداحوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ اس میچ میں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) نے جیت کر پلے آف میں جگہ بنائی، جبکہ سی ایس کے کا سفر وہیں ختم ہو گیا۔
اسٹار اسپورٹس کمنٹیٹر کا انکشاف
حال ہی میں ‘دی رنویر شو’ کے دوران اسٹار اسپورٹس کے نامور پریزنٹر اور کمنٹیٹر تنئے تیواری نے ایک ان کہی کہانی شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس میچ کے دوران ایم ایس دھونی شدید غصے میں تھے، جسے وہ ‘seething with anger’ یعنی غصے سے ابلنا کہہ رہے تھے۔ تنئے کے مطابق، دھونی کو محسوس ہو رہا تھا کہ میچ مکمل طور پر سی ایس کے کے کنٹرول میں تھا، لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی بازی پلٹ گئی۔ دھونی 13 گیندوں پر 25 رنز بنا کر یش دیال کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
میدان میں جذباتی مناظر
میچ کے بعد جب آر سی بی کے کھلاڑی اپنی جیت کا جشن منا رہے تھے، تو سی ایس کے کے کھلاڑی ہاتھ ملانے کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ کافی دیر انتظار کے بعد، دھونی کا صبر جواب دے گیا اور وہ صرف سپورٹ اسٹاف سے ہاتھ ملا کر سیدھے ڈریسنگ روم کی جانب چلے گئے۔ اس موقع پر سابق اسپنر ہربھجن سنگھ نے بھی انکشاف کیا تھا کہ دھونی اس قدر مایوس تھے کہ انہوں نے ڈریسنگ روم کے باہر ایک اسکرین پر مکا مار دیا تھا۔
فیلڈنگ کے دوران غصہ: گجرات ٹائٹنز کا واقعہ
دھونی کے جذباتی ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ ایک اور واقعے میں، آئی پی ایل 2025 کے دوران گجرات ٹائٹنز کے خلاف میچ میں دھونی کو میدان پر اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں متیشا پتھیرانا اور شیوم دوبے پر غصہ کرتے دیکھا گیا۔ دھونی فیلڈنگ میں تبدیلیاں کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کھلاڑیوں نے ان کے اشاروں کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھا، جس پر دھونی نے کھلے عام اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔
کیریئر کا ایک مشکل دور
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایم ایس دھونی آئی پی ایل 2026 کے پورے سیزن سے باہر رہے، جو ان کے شاندار کیریئر میں پہلی بار ہوا تھا۔ پنڈلی اور انگوٹھے کی انجری نے انہیں میدان سے دور رکھا۔ دھونی کا یہ جذباتی رویہ دراصل ان کی کھیل کے تئیں لگن اور جیت کی شدید خواہش کا عکاس ہے۔ چاہے وہ میدان ہو یا ڈریسنگ روم، دھونی کا ہر ردعمل ان کی کرکٹ سے محبت کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک مثال ہے۔
خلاصہ
آئی پی ایل کی تاریخ میں بہت سے کھلاڑی آئے اور گئے، لیکن دھونی کا اثر ہمیشہ قائم رہے گا۔ وہ میچ ہو، شکست ہو یا کامیابی، دھونی کا ہر انداز کرکٹ کے شائقین کے لیے دلچسپی کا باعث رہتا ہے۔ یہ کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ کھیل کے میدان میں جذبات کی اہمیت کیا ہوتی ہے اور ایک عظیم کھلاڑی بھی کبھی کبھار اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا، جو کہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔
