Get Cricket New
Cricket News

Not Vaibhav Sooryavanshi, Another RR Player Demanded To Be Fast-Tracked In India – IPL 2026: کیا دھرو جریل انڈین کرکٹ ٹیم میں واپسی کے حقدار ہیں؟

Neha Kapoor · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: راجستھان رائلز کا غیر متوقع سفر اور جریل کی اہمیت

آئی پی ایل 2026 کے آغاز سے قبل، شاید ہی کسی نے راجستھان رائلز کو ٹائٹل کی دوڑ میں شامل سمجھا تھا۔ تاہم، کرکٹ کے میدان میں غیر متوقع نتائج اکثر دیکھنے میں آتے ہیں، اور راجستھان رائلز نے اپنی بہترین ٹیم ورک کی بدولت کوالیفائر 2 تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اب ان کا مقابلہ گجرات ٹائٹنز سے ہے، جہاں سے جیت انہیں فائنل کا ٹکٹ دلائے گی۔

اس کامیابی کے پیچھے دو بڑے نام ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف 15 سالہ نوجوان سنسنی ویبھو سوریہ ونشی ہیں، جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے لیگ میں تہلکہ مچا دیا ہے، تو دوسری طرف تجربہ کار اور قابل اعتماد دھرو جریل ہیں۔

ویبھو سوریہ ونشی اور دھرو جریل: ایک خطرناک جوڑی

ویبھو سوریہ ونشی نے آئی پی ایل 2026 میں 680 رنز بنا کر سب کو حیران کر دیا ہے، جبکہ ان کا اسٹرائیک ریٹ 242 ہے، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ ان کے سامنے بولرز بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اسی دوران، دھرو جریل نے بھی اپنی بلے بازی سے میچ وننگ اننگز کھیلی ہیں۔ جریل نے 15 میچوں میں 508 رنز بنائے ہیں، جس میں 155 کا اسٹرائیک ریٹ اور 5 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یہ دونوں کھلاڑی راجستھان رائلز کی بیٹنگ لائن اپ کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔

کیون پیٹرسن کا دھرو جریل کے حق میں مطالبہ

جہاں ماہرین ویبھو سوریہ ونشی کی صلاحیتوں کے معترف ہیں، وہیں انگلینڈ کے لیجنڈری بلے باز کیون پیٹرسن نے بی سی سی آئی (BCCI) سے اپیل کی ہے کہ وہ دھرو جریل پر کڑی نظر رکھیں۔ پیٹرسن کا ماننا ہے کہ جریل ایک بہت ہی مستند وکٹ کیپر اور بلے باز ہیں جنہیں انڈین ٹیم میں باقاعدہ موقع ملنا چاہیے۔

دھرو جریل کا بین الاقوامی کیریئر: ایک نظر

دھرو جریل کا اب تک کا بین الاقوامی سفر اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے۔ انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں مواقع ملے جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ 9 ٹیسٹ میچوں میں 35.30 کی اوسط سے 459 رنز بنانا، جس میں ایک سنچری بھی شامل ہے، ان کی قابلیت کا ثبوت ہے۔

تاہم، وائٹ بال کرکٹ (ٹی 20 اور ون ڈے) میں جریل کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ 4 ٹی 20 میچوں میں صرف 12 رنز بنانے کے بعد انہیں ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔ اس وقت انڈین ٹیم میں ٹیلنٹ کی بہتات ہے، جس کی وجہ سے جریل کے لیے وائٹ بال فارمیٹ میں جگہ بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

کیا جریل کو ون ڈے اور ٹی 20 میں موقع ملنا چاہیے؟

فی الحال، دھرو جریل ٹیسٹ سیٹ اپ کا ایک اہم حصہ ہیں اور انہیں افغانستان کے خلاف ون آف ٹیسٹ کے لیے بھی منتخب کیا گیا ہے۔ جہاں تک ون ڈے اور ٹی 20 کا تعلق ہے، سلیکٹرز کے پاس آپشنز کی کمی نہیں ہے۔ پیٹرسن کی رائے اپنی جگہ اہم ہے، لیکن جریل کو اپنی فارم کو مزید مستقل بنانا ہوگا تاکہ وہ وائٹ بال کرکٹ میں دوبارہ جگہ بنا سکیں۔

آئی پی ایل 2026 کا باقی ماندہ سفر یہ طے کرے گا کہ آیا جریل اپنی فارم کو برقرار رکھتے ہوئے سلیکٹرز کو یہ سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ مستقبل میں انڈیا کی وائٹ بال ٹیم کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے انصاف کے ساتھ ساتھ ٹیم میں مستقل جگہ پانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔